جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

ڈیپ سیک کی نئی تحقیق، اے آئی ماڈلز کے ڈیزائن میں بنیادی تبدیلی کا اشارہ

3 جنوری 2026

ڈیپ سیک کی نئی تحقیق، اے آئی ماڈلز کے ڈیزائن میں بنیادی تبدیلی کا اشارہ

آج کے تقریباً تمام بڑے اے آئی ماڈلز ایک ایسے تصور پر کھڑے ہیں جو دس سال سے زیادہ پرانا ہے۔ یہ تصور کام کرتا ہے، اسکیل کرتا ہے، اور اسی لیے برسوں سے اسے آخری سچ سمجھ لیا گیا۔ مگر حال ہی میں DeepSeek نے ایک ایسا تحقیقی پیپر جاری کیا ہے جو صاف لفظوں میں کہتا ہے: اس سے آگے بھی راستہ موجود ہے۔ اور اگر یہ راستہ درست ثابت ہوا تو طاقتور اے آئی ماڈلز بنانے کا طریقہ بنیادی سطح پر بدل سکتا ہے۔

یہ پرانا ڈیزائن غلط نہیں تھا، بلکہ ضروری تھا۔ اسی کی بدولت جدید اے آئی ممکن ہو سکی۔ مگر اس کے ساتھ ایک سمجھوتہ بھی جڑا تھا۔ ماڈلز کو مستحکم رکھنے کے لیے ان کے اندر معلومات کے بہاؤ کو محدود کر دیا گیا۔ ابتدا میں یہ مسئلہ محسوس نہیں ہوا، کیونکہ ڈیٹا بڑھتا رہا، ماڈلز بڑے ہوتے گئے، اور نتائج بہتر آتے رہے۔ مگر جیسے جیسے ماڈلز سے گہری منطق اور پیچیدہ استدلال کی توقع کی جانے لگی، یہ اندرونی حد ایک خاموش رکاوٹ بن گئی۔

لینگویج ماڈلز تہوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ سوال پہلی تہہ میں جاتا ہے، وہاں تھوڑی پروسیسنگ ہوتی ہے، پھر اگلی تہہ، اور یوں آخرکار جواب نکلتا ہے۔ اگر جواب غلط ہو تو تربیت کے دوران ایک سگنل پیچھے کی طرف بہتا ہے جسے گریڈینٹ کہتے ہیں۔ برسوں پہلے محققین نے دیکھا کہ جب یہ سگنل ہر تہہ سے گزرتا ہے تو یا تو مدھم ہو جاتا ہے یا بے قابو ہو جاتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے “Residual Connections” متعارف کروائے گئے، جنہوں نے ڈیپ لرننگ کو ایک دیوار سے ٹکرا کر رکنے سے بچا لیا۔ ان شارٹ کٹس نے معلومات کو صاف اور محفوظ انداز میں آگے پیچھے بہنے دیا، اور یوں بہت گہرے نیٹ ورکس کو ٹرین کرنا ممکن ہو گیا۔

اسی کامیابی نے اس ڈیزائن کو مقدس بنا دیا۔ رفتہ رفتہ یہ ایک انتخاب نہیں رہا بلکہ انفراسٹرکچر بن گیا۔ ماڈل بنانے والے باقی سب کچھ بدلتے رہے، مگر تہوں کے درمیان معلومات کا بہاؤ تقریباً ویسا ہی رہا۔ اس استحکام کی قیمت یہ تھی کہ سارا ڈیٹا ایک تنگ راستے سے گزرنے پر مجبور رہا۔ برسوں تک یہ مسئلہ نظر نہیں آیا، مگر اب یہ واضح ہو رہا ہے کہ یہی تنگ راستہ مشکل کاموں میں ماڈلز کو محدود کر رہا ہے۔

یہاں سے ایک نیا سوال اٹھا۔ اگر ایک کے بجائے کئی معلوماتی راستے ہوں تو کیا ہوگا؟ اسی خیال سے “Hyperconnections” سامنے آئے، جہاں متعدد اندرونی اسٹریمز ایک دوسرے سے بات کر سکتے ہیں۔ کاغذ پر یہ زبردست لگتا ہے، مگر مسئلہ یہ تھا کہ جیسے جیسے تربیت آگے بڑھتی، یہ آزاد اسٹریمز عدم استحکام پیدا کر دیتیں۔ سب کچھ ٹھیک چلتا رہتا، اور پھر اچانک ٹریننگ تباہ ہو جاتی۔ بڑے پیمانے پر یہ خطرہ ناقابلِ قبول تھا، اسی لیے یہ آئیڈیا کبھی مین اسٹریم نہ بن سکا۔

DeepSeek نے اسی خلا پر کام کیا۔ ان کا نیا طریقہ “Manifold Constrained Hyperconnections” یا MHC کہلاتا ہے۔ بنیادی خیال سادہ ہے: معلوماتی راستے آپس میں جڑ سکتے ہیں، مگر سگنل کی مجموعی طاقت نہ بڑھے نہ گھٹے۔ اس کے لیے وہ ریاضیاتی پابندیاں لگاتے ہیں تاکہ معلومات کی تقسیم ہو، مگر بگاڑ نہ آئے۔ اس استحکام کو یقینی بنانے کے لیے Sinkhorn-Knopp الگورتھم استعمال کیا گیا، جو ان مکسنگ میٹرکس کو ایک خاص جیومیٹرک اسپیس میں رکھتا ہے جہاں سگنل قابو میں رہتا ہے۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں MHC کامیاب ہوتا ہے۔ استحکام کسی نازک سیٹنگ پر منحصر نہیں بلکہ خود ریاضی سے ضمانت شدہ ہے۔ یوں پرانے Residual Connections کی مضبوطی بھی برقرار رہتی ہے اور اندرونی گنجائش بھی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

DeepSeek نے اسے محض نظریہ نہیں رکھا۔ انہوں نے 3 ارب، 9 ارب اور 27 ارب پیرامیٹرز والے ماڈلز ٹرین کیے۔ آٹھ مختلف بینچ مارکس پر MHC ماڈلز نے روایتی ہائپرکنیکشنز کو واضح طور پر پیچھے چھوڑ دیا، خاص طور پر منطق اور ریاضی جیسے کاموں میں۔ GSM8K، BBH اور MMLU جیسے ٹیسٹس میں یہ چھلانگیں معمولی نہیں بلکہ معنی خیز تھیں۔

اتنی چوڑائی عموماً ہارڈویئر پر بھاری پڑتی ہے، مگر DeepSeek نے ٹریننگ اسٹیک کو بھی ازسرِنو ڈیزائن کیا۔ کسٹم GPU کرنلز، منتخب ری کمپیوٹیشن، اور کمیونیکیشن کو کمپیوٹ کے ساتھ اوورلیپ کر کے انہوں نے اندرونی ڈیٹا فلو کو چار گنا بڑھا دیا، جبکہ کل ٹریننگ وقت صرف تقریباً سات فیصد بڑھا۔ یہ اس دور میں غیر معمولی بات ہے جہاں میموری ایک بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔

یہ پیپر DeepSeek کی اس روایت کا تسلسل لگتا ہے جو اس نے 2025 میں اپنے R1 ریجننگ ماڈل کے ساتھ قائم کی تھی، جسے کئی ماہرین نے “Sputnik moment” قرار دیا۔ ایک بار پھر کمپنی نے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ صرف زیادہ ہارڈویئر پر انحصار نہیں کر رہی بلکہ بنیادی ڈیزائن پر سوال اٹھا رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تحقیق کھلے عام شائع کی گئی، جو چینی اے آئی ایکوسسٹم کے بڑھتے اعتماد کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔

سوال اب یہ نہیں کہ MHC درست ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر معلومات کے بہاؤ کو وسیع کرنا محض مزید تہیں بڑھانے سے زیادہ مؤثر ثابت ہو، تو اور کون سی “حل شدہ” چیزیں دراصل ابھی حل طلب ہیں؟ شاید آنے والے برسوں میں اے آئی کی اگلی بڑی چھلانگ اسی اندرونی ڈیزائن کی جنگ سے نکلے۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya,#DeepSeek,#AIResearch,#LLMArchitecture,#FutureOfAI,#MachineLearning

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں