ڈیپ سیک اپنے اگلی نسل کے ماڈل V4 کو فروری کے وسط میں لانچ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اندرونی ٹیسٹس کے مطابق یہ نیا ماڈل کوڈنگ کے شعبے میں موجودہ بڑے ناموں کو پیچھے چھوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس نے عالمی اے آئی انڈسٹری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق ڈیپ سیک کا وی فور ماڈل خاص طور پر پروگرامنگ اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے کاموں میں غیر معمولی کارکردگی دکھا رہا ہے۔ کمپنی کے اندرونی تجربات یہ اشارہ دیتے ہیں کہ یہ ماڈل کوڈ لکھنے، ڈی بگنگ اور پیچیدہ لاجک کو سمجھنے میں Anthropic کے کلاڈ اور OpenAI کے جی پی ٹی سیریز کے ماڈلز سے بہتر نتائج دے سکتا ہے، اگرچہ حتمی موازنہ عوامی لانچ کے بعد ہی ممکن ہو گا۔
ڈیپ سیک کی تیز رفتار مقبولیت کی ایک بڑی وجہ اس کا اوپن سورس اور مفت ماڈلز پر مبنی حکمتِ عملی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں یہ پلیٹ فارم غیر معمولی حد تک تیزی سے پھیلا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق چین میں ڈیپ سیک تقریباً 89 فیصد مارکیٹ شیئر حاصل کر چکا ہے، جبکہ روس، ایران اور افریقی ممالک میں بھی اس کے ماڈلز بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہے ہیں۔ اس رجحان کی نشاندہی Microsoft کی ایک حالیہ تحقیق میں بھی کی گئی ہے، جس میں بتایا گیا کہ کم لاگت اور مقامی کنٹرول والے اے آئی ماڈلز عالمی جنوب میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔
اس بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ساتھ ساتھ ڈیپ سیک کو مغربی ممالک میں شدید جانچ پڑتال کا سامنا بھی ہے۔ آسٹریلیا، جرمنی اور امریکا سمیت کئی حکومتوں نے ڈیٹا پرائیویسی اور قومی سلامتی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے، جس کے باعث شمالی امریکا اور یورپ میں اس پلیٹ فارم کی قبولیت اب بھی محدود ہے۔ ان ممالک میں ریگولیٹری دباؤ اور ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق قوانین ڈیپ سیک کی توسیع کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھے جا رہے ہیں۔
یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی اے آئی منظرنامہ اب صرف ٹیکنالوجی کی دوڑ نہیں رہا، بلکہ اس میں جغرافیائی سیاست، ڈیٹا خودمختاری اور اعتماد کے سوالات بھی مرکزی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ایک طرف ڈیپ سیک جیسے پلیٹ فارمز ترقی پذیر دنیا میں اے آئی کو زیادہ قابلِ رسائی بنا رہے ہیں، تو دوسری طرف مغربی دنیا میں شفافیت اور کنٹرول کے تقاضے ان کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
اگر ڈیپ سیک کا وی فور ماڈل لانچ کے بعد واقعی اپنے دعوؤں پر پورا اترتا ہے، تو یہ نہ صرف کوڈنگ اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے میدان میں توازن بدل سکتا ہے بلکہ یہ بھی واضح کر دے گا کہ عالمی اے آئی قیادت اب صرف چند مغربی اداروں تک محدود نہیں رہی۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #DeepSeek, #ArtificialIntelligence, #AIModels, #CodingAI, #OpenSourceAI, #FutureOfAI