گوگل ڈیپ مائنڈ نے Deep Research Max کے نام سے ایک نیا خودکار تحقیقی ایجنٹ متعارف کرایا ہے، جو Gemini 3.1 Pro پر مبنی ہے اور طویل المدتی تحقیق، ڈیٹا تجزیہ اور انٹرپرائز استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
اس سسٹم کو دو مختلف انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ایک ورژن “Deep Research” ہے جو تیز رفتار اور کم لاگت کے ساتھ ریئل ٹائم استعمال کے لیے موزوں ہے، جبکہ “Deep Research Max” زیادہ گہرائی کے ساتھ کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جہاں یہ وقت لے کر مرحلہ وار تحقیق، تجزیہ اور نتائج کو بہتر بناتا ہے۔ یہی خصوصیت اسے انٹرپرائز سطح کے پیچیدہ کاموں جیسے مارکیٹ ریسرچ اور مالیاتی تجزیہ کے لیے موزوں بناتی ہے۔
کارکردگی کے لحاظ سے یہ ماڈل کئی اہم بینچ مارکس میں نمایاں نتائج دے رہا ہے۔ DeepSearchQA، Humanity’s Last Exam اور BrowseComp جیسے ٹیسٹس میں اس نے اپنے پچھلے ورژن اور دیگر ماڈلز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جو اس کی بہتر reasoning اور معلومات تلاش کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
اس ماڈل کی سب سے اہم خصوصیت MCP یعنی Model Context Protocol کی سپورٹ ہے، جس کے ذریعے یہ مختلف ڈیٹا سورسز جیسے مالیاتی ڈیٹابیس، نجی ریکارڈز اور مخصوص تحقیقاتی پلیٹ فارمز سے براہ راست جڑ سکتا ہے۔ اس سے یہ ایک عام سرچ ٹول کے بجائے ایک مکمل تحقیقی سسٹم بن جاتا ہے۔
مزید برآں یہ ایجنٹ اب خودکار طور پر چارٹس اور انفوگرافکس بھی تیار کر سکتا ہے، جس سے رپورٹس صرف متن تک محدود نہیں رہتیں بلکہ بصری شکل میں بھی قابلِ استعمال بن جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ صارف تحقیق شروع ہونے سے پہلے اس کی منصوبہ بندی کو دیکھ اور تبدیل بھی کر سکتا ہے، جو کنٹرول اور شفافیت فراہم کرتا ہے۔
یہ نظام مختلف قسم کے ڈیٹا جیسے PDF، CSV، تصاویر، آڈیو اور ویڈیو کو بھی سمجھ سکتا ہے، جبکہ اس کے reasoning مراحل کو لائیو دیکھا جا سکتا ہے، جو انٹرایکٹو ریسرچ پروڈکٹس کے لیے اہم ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #GoogleDeepMind, #Gemini, #ArtificialIntelligence, #AIResearch, #FutureTech