روزمرہ کے ڈیجیٹل کام اب ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں انسان کو صرف ہدایت دینی ہوتی ہے، اور باقی سارا کام خودکار ایجنٹس سنبھالتے ہیں. ڈیپ ایجنٹ ابیکس اے آئی کی نئی ایجاد ہے جو ویب براؤزر کو صرف سمجھتی نہیں بلکہ خود استعمال بھی کرتی ہے. یہ وہی فرق ہے جو روایتی چیٹ بوٹس اور اگلی نسل کے خود مختار سسٹمز کے درمیان دیوار بن کر کھڑا تھا، اور اب یہی دیوار گر چکی ہے.
ڈیپ ایجنٹ کو عام سوالات سے زیادہ عملی ٹاسکس کے لیے تیار کیا گیا ہے. آپ اسے کہتے ہیں کہ لنکڈ اِن پر نئی لیڈز تلاش کرے یا کسی خاص کیٹیگری کے بلاگز ڈھونڈے، تو یہ صرف معلومات نہیں دیتا بلکہ حقیقی براؤزر کھول کر سرچ بار میں ٹائپ کرتا ہے، نتائج چیک کرتا ہے، ای میلز تیار کرتا ہے اور رپورٹ بنا کر واپس بھیج دیتا ہے. اس کے پیچھے چلنے والا براؤزر مکمل طور پر لائیو ہوتا ہے جس میں کرسر کی ہر حرکت حقیقی ویب پیج پر دکھائی دیتی ہے.
ڈیپ ایجنٹ کی اصل طاقت اس کی شیڈولنگ ہے. اگر آپ اسے روزانہ صبح آٹھ بجے رپورٹس، لیڈ سرچ یا ویب سائٹ چیکنگ کا ٹاسک دیں تو یہ ہر روز اسی وقت خود جاگ کر پورا پروسیس چلائے گا. کاروباری صارفین کے لیے یہ ایک طرح کا ڈیجیٹل ملازم ہے جو تنخواہ نہیں مانگتا، نہ چھٹی لیتا ہے اور نہ کام ادھورا چھوڑتا ہے.
ڈیپ ایجنٹ کی افادیت سب سے زیادہ کاروباری استعمال میں سامنے آتی ہے. مارکیٹنگ ٹیمیں اسے بلاگز کی تلاش، ای میل ٹیمپلیٹس، رابطوں کی فہرستیں اور انڈسٹری میپنگ کے لیے استعمال کر سکتی ہیں. سیلز ٹیمیں اسے لنکڈ اِن آؤٹ ریچ، روزانہ اپڈیٹس، یا نئے ممکنہ کلائنٹس کی فہرستیں بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہیں. یہاں تک کہ جاب ہنٹرز بھی اسے خودکار اپلائی ورکر کے طور پر استعمال کرتے ہیں جس میں یہ ریزیومے اَپ لوڈ کرکے ہر لسٹڈ جاب پر فارم بھر دیتا ہے.
ڈیپ ایجنٹ کی بصری کارکردگی اسے مزید منفرد بناتی ہے. صارف اپنی اسکرین پر دیکھ سکتا ہے کہ AI کس ویب سائٹ پر جا رہا ہے، کن لنکس پر کلک کر رہا ہے، کون سا فارم بھر رہا ہے اور کن معلومات کو کاپی یا محفوظ کر رہا ہے. یہ شفافیت انسانی اعتماد کو بڑھاتی ہے کیونکہ ہر قدم واضح طور پر دکھائی دیتا ہے.
ابیکس نے ڈیپ ایجنٹ کو اپنے Chat LLM سسٹم میں ضم کیا ہے جس کا فائدہ یہ ہے کہ صارف مختلف ماڈلز جیسے GPT، Claude، Gemini یا Grok کے درمیان سوئچ کرسکتا ہے. اس سے ٹاسک کی نوعیت کے لحاظ سے بہترین ماڈل کا انتخاب ممکن ہوتا ہے. مثال کے طور پر، ٹیکنیکل سرچ کے لیے Claude زیادہ بہتر، جب کہ ویب ایکشنز کے لیے GPT مؤثر ثابت ہوسکتا ہے.
ڈیپ ایجنٹ کا ڈیپ ایجنٹ لسنر بھی اس کا حصہ ہے جو میٹنگ نوٹس، اسکرین ریڈنگ، فالو اپ ٹاسک اور ورک فلو مینجمنٹ جیسی سہولیات فراہم کرتا ہے. دونوں مل کر ایک ورچوئل ملازم کا کردار ادا کرتے ہیں جو تحقیق سے لے کر ڈیجیٹل ایکزیکیوشن تک ہر قدم خود کرتا ہے.
ڈیپ ایجنٹ کی ماہانہ قیمت دس ڈالر رکھی گئی ہے جو کسی بھی کاروبار کے لیے ایک انتہائی کم لاگت کا حل بنتا ہے. اس سے پہلے اس سطح کی آٹومیشن صرف ہزاروں ڈالر کی سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے بعد ممکن ہوتی تھی، مگر ابیکس نے یہ سب ایک آسان سروس کی شکل میں دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے.
ڈیپ ایجنٹ اس سمت میں پہلا قدم ہے جہاں ویب خودکار طور پر انسانوں کے لیے چلنے لگے گا. اگلے چند سالوں میں یہ ٹیکنالوجی دفاتر، فیکٹریوں، ای کامرس اور حتیٰ کہ گھریلو کاموں تک پھیلنے والی ہے. اور یہ حقیقت اب مزید دور کا خواب نہیں رہی.
اے آئی کی دنیا