جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

تجزیے

ڈیٹا سائنٹسٹ کے کام کا بدلتا ہوا مستقبل

1 دسمبر 2025

ڈیٹا سائنٹسٹ کے کام کا بدلتا ہوا مستقبل

دنیا تیزی سے اس مقام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں ڈیٹا ہر صنعت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے۔ ڈیٹا سائنٹسٹ کبھی وہ کردار تھا جس کے لیے الگورتھم، اسٹیٹسٹکس اور سافٹ ویئر انجینئرنگ کی مہارت سب سے بڑی طاقت سمجھی جاتی تھی۔ مگر اب AI کی نئی لہریں اس کردار کو نئے رنگ میں ڈھال رہی ہیں اور پیشہ ایک بار پھر اپنی بنیادوں سے بدل رہا ہے۔ جدید ماڈلز خام ڈیٹا کو صاف کرنے، فیچر انجینئرنگ تیار کرنے اور پیچیدہ پیٹرنز تلاش کرنے میں انسانوں سے بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں.

اے آئی کی دنیا کی تیز رفتار دوڑ میں ایک نیا سائنسدان سامنے آیا ہے جس نے ریسرچ کمیونٹی کو حیران کر دیا ہے۔ کاسموس وہ نظام ہے جسے مائیکروسافٹ کے محققین نے بطور خودمختار اے آئی سائنٹسٹ تیار کیا ہے۔ اسے صرف ڈیٹا دیا جاتا ہے اور یہ بغیر انسانی رہنمائی کے پورے بارہ گھنٹے مستقل تحقیق، تجزیہ، پروگرامنگ، ماڈلنگ اور رپورٹنگ کرتا ہے۔

تحقیقی دنیا میں اس کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ یہ محض خلاصہ نہیں بناتا بلکہ ڈیٹا کو پڑھ کر خود سوال اٹھاتا ہے، پرکھتا ہے اور جواب تلاش کرتا ہے۔ کاسموس ایک ڈیٹا سیٹ سے تحقیق کے سو سے زیادہ ممکنہ راستے نکالتا ہے، پھر سب سے درست سمت کو منتخب کر کے مکمل ریسرچ پلان تشکیل دیتا ہے۔ اپنی بارہ گھنٹے کی آزادانہ ورک ونڈو میں یہ ساڑھے تین سو سے زائد خودکار تجربات چلاتا ہے اور نت نئے نتائج اخذ کرتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کاسموس نے ان ابتدائی ٹرائلز میں حقیقی کامیابیاں حاصل کیں۔ مثال کے طور پر اس نے دماغی خلیوں کے ٹھنڈک میں جانے کے بعد توانائی بچانے کے ایک نئے طریقے کی نشاندہی کی، جو بعد میں انسانوں پر کی گئی ریسرچ میں بھی درست ثابت ہوئی۔ اسی طرح اس نے سولر سیلز میں نمی کی وجہ سے ہونے والی تباہی کے ایک میکانزم کو دریافت کیا جسے انسانی سائنسدانوں نے بعد میں تجرباتی طور پر کنفرم کیا۔ ایک اور تجربے میں اس نے مختلف جانداروں کے دماغوں میں نیورونز کی کنکشن میپنگ میں چھپی ایک مشترکہ ریاضیاتی نسبت دریافت کی جو اس سے پہلے کسی انسان نے نوٹ نہیں کی تھی۔

اس کی کارکردگی اتنی متاثر کن ہے کہ آزاد سائنسدانوں نے جب اس کی رپورٹس کا تجزیہ کیا تو تقریباً اسی فیصد نتائج سائنسی طور پر درست پائے گئے۔ یہ کارکردگی ایک جونیئر ریسرچر کی چھ ماہ کی تحقیق کے برابر ہے جو کاسموس صرف ایک سیشن میں مکمل کر دیتا ہے۔ وہی رپورٹس جن میں واضح گراف، کوڈ، لوجک، ریفرنسز اور تفصیلی نتائج شامل ہوتے ہیں۔

تکنیکی لحاظ سے کاسموس ایک اکیلا سسٹم نہیں بلکہ سیکڑوں چھوٹے خودمختار ایجنٹس کا مجموعہ ہے۔ کچھ ایجنٹس ریسرچ پیپر پڑھتے ہیں، کچھ ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں، کچھ کوڈ لکھتے ہیں اور کچھ غلطیاں پکڑ کر انہیں درست کرتے ہیں۔ تمام ایجنٹس ایک مشترکہ عالمی میموری تک رسائی رکھتے ہیں۔ یہی عالمی میموری اسے لمبے عرصے تک ایک ہی مقصد پر مرکوز رہنے، تسلسل قائم رکھنے اور پیچیدہ سائنسی پزلز حل کرنے میں مدد دیتی ہے۔

پھر بھی چند حدود لیمیٹیڈ ہیں۔ یہ غیر منظم یا بغیرلیبل ڈیٹا کو مؤثر انداز میں نہیں سمجھ پاتا۔ یہ بہت بڑے سائز کی فائلیں استعمال نہیں کر سکتا اور ایک دفعہ تحقیق شروع ہو جائے تو درمیان میں نئی ہدایات قبول نہیں کرتا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسے سائنسی "فیصلے" کرنے کی اہلیت ابھی نہیں ملی۔ کون سی دریافت واقعی اہم ہے اور کون سی محض اتفاقی، یہ فیصلہ ابھی بھی انسانوں ہی کو کرنا پڑتا ہے۔

پھر بھی سچ یہی ہے کہ کاسموس نے سائنس کے مستقبل کی سمت بدل دی ہے۔ تحقیق اب صرف انسانوں کی رفتار کی پابند نہیں رہی۔ جہاں انسان مہینوں میں تحقیق کرتے ہیں، وہاں یہ نظام ایک ہی دن میں وہی محنت کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔ سائنس اب ایک نئے دور کے دہانے پر کھڑی ہے، جہاں سوال صرف یہ نہیں کہ ہم کیا دریافت کریں گے بلکہ یہ کہ کاسموس جیسے سسٹمز ہمیں کس رفتار سے مستقبل تک پہنچائیں گے۔

اور شاید اصل سوال اب یہ ہے کہ جب مشینیں خود سائنس کرنے لگیں، تو انسانوں کے ہاتھ میں رہنمائی کا چراغ کب تک رہے گا۔

یہ پوسٹ اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں