ٹیکنالوجی اور تخلیق کے سنگم پر ایک نیا باب کھلنے والا ہے۔ “ریفک انادول اسٹوڈیو” نے اعلان کیا ہے کہ ڈیٹالینڈ (Dataland) ۰ دنیا کا پہلا “میوزیم آف اے آئی آرٹس” : 2026 کی بہار میں لاس اینجلس کے مرکز میں واقع “دی گرینڈ ایل اے” میں کھلے گا، جو مشہور معمار فرینک گیری کے ڈیزائن کردہ کمپلیکس میں تعمیر ہو رہا ہے۔
یہ منفرد میوزیم 25 ہزار مربع فٹ پر پھیلا ہوگا اور اس میں پانچ گیلریز شامل ہوں گی، جن میں سب سے حیران کن “Infinity Room” ہوگی۔
یہ دنیا کی پہلی ایسی جگہ ہوگی جہاں مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی خوشبوؤں کے ذریعے ایک مکمل تخلیقی تجربہ پیش کیا جائے گا۔
یہ خوشبوئیں “Large Nature Model” اور “World Models” ٹیکنالوجی سے پیدا ہوں گی : ایسی جدید اے آئی جو فطرت اور طبیعیات (Physics) کے اصولوں کو حقیقی دنیا کی طرح سمجھ سکتی ہے۔
“اLarge Nature Model” ایک زبردست سائنسی و فنی کامیابی ہے، جو دنیا کے مشہور اداروں جیسے سمتھسونین، لندن کے نیشنل ہسٹری میوزیم، اور کارنیل لیب آف آرنیتھالوجی کے ڈیٹا پر تربیت یافتہ ہے۔
یہ ماڈل فطرت کی آدھی ارب تصاویر پر مشتمل ڈیٹا سے سیکھتا ہے اور ان سے ایسے متحرک فن پارے تخلیق کرتا ہے جو بیک وقت حقیقی اور مجازی محسوس ہوتے ہیں۔
ریفک انادول، جو ڈیجیٹل آرٹ اور اے آئی تخلیق کے میدان میں عالمی شہرت رکھتے ہیں، نے کہا ہے کہ یہ پورا منصوبہ “اخلاقی اے آئی” کے اصولوں کے تحت تیار کیا گیا ہے۔
اس مقصد کے لیے تمام ڈیٹا قانونی اجازت کے ساتھ حاصل کیا گیا اور تمام اے آئی تجربات گوگل کے اوریگون ڈیٹا سینٹرز پر چلائے جا رہے ہیں جو سو فیصد قابلِ تجدید توانائی (Renewable Energy) سے چلتے ہیں۔
ڈیٹالینڈ صرف ایک میوزیم نہیں ہوگا، بلکہ یہ ایک زندہ تجربہ گاہ بھی ہو گا۔
یہاں گوگل آرٹس اینڈ کلچر کے اشتراک سے ایک آرٹسٹ ریزیڈنسی پروگرام بھی شروع کیا جائے گا، جس میں ہر سال تین فنکار چھ ماہ تک اے آئی پر مبنی پراجیکٹس پر کام کریں گے، اور ان کے نتائج عوامی نمائشوں کی شکل میں پیش کیے جائیں گے۔
یہ میوزیم مستقبل کے اس خواب کی تعبیر ہے جہاں فن، فطرت اور مصنوعی ذہانت ایک دوسرے میں گھل مل جاتے ہیں۔
یہ صرف دیکھنے کی جگہ نہیں ہوگی بلکہ محسوس کرنے، سونگھنے اور سوچنے کی ایک نئی دنیا ہوگی۔
2026 میں جب ڈیٹالینڈ کے دروازے کھلیں گے، تو یہ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ انسانی تخلیق اور مشینی ذہانت کا پہلا مشترکہ معبد ہوگا۔
“یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔”