ڈیجیٹل ذہنی صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار پیش رفت اب سنگین قانونی اور اخلاقی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ فرانسیسی اخبار Le Monde کی ایک رپورٹ کے مطابق OpenAI اور Anthropic جیسے بڑے ادارے ذہنی صحت کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس متعارف کروا رہے ہیں، جبکہ دنیا کے مختلف براعظموں میں عدالتیں ایسے مقدمات سے نمٹ رہی ہیں جن میں الزام ہے کہ ان چیٹ بوٹس نے صارفین کو فریب زدہ ذہنی کیفیت میں دھکیلا یا بعض صورتوں میں خودکشی کی ترغیب دینے والے رویے اختیار کیے۔
رپورٹ کے مطابق بڑی ٹیک کمپنیاں ان اے آئی ہیلتھ پروڈکٹس کے ذریعے ذاتی نوعیت کے غیر معمولی ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ رہی ہیں۔ اس میں صارفین کی آوازیں، زبان کے استعمال کے انداز، ٹائپ کرنے کی رفتار، اور موبائل فونز و اسمارٹ واچز کے ذریعے ریکارڈ ہونے والی جسمانی حرکات شامل ہیں۔ ماہرین کے نزدیک یہ ڈیٹا ذہنی صحت کے تجزیے میں طاقتور ثابت ہو سکتا ہے، مگر اس کے غلط استعمال کا خطرہ بھی اتنا ہی بڑھ جاتا ہے۔
اعداد و شمار اس رجحان کی وسعت کو مزید واضح کرتے ہیں۔ اوپن اے آئی کے مطابق دنیا بھر میں ہر ہفتے دو سو تیس ملین سے زائد افراد چیٹ جی پی ٹی سے صحت اور فلاح و بہبود سے متعلق سوالات کرتے ہیں۔ اسی دوران Character.AI اور Google نے حال ہی میں متعدد مقدمات نمٹانے پر اتفاق کیا ہے، جن میں الزام لگایا گیا تھا کہ ان کے چیٹ بوٹس نے نوعمر افراد میں ذہنی صحت کے بحران اور خودکشی جیسے واقعات میں کردار ادا کیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ مقدمات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اے آئی کو ذہنی صحت جیسے حساس شعبے میں متعارف کرانے کے لیے مضبوط ضوابط اور واضح ذمہ داری کے اصول ناگزیر ہو چکے ہیں۔ سوال اب صرف یہ نہیں رہا کہ یہ ٹیکنالوجی کتنی مددگار ہو سکتی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کی حدود کہاں ہونی چاہئیں اور صارفین کو ممکنہ نقصانات سے کیسے بچایا جائے۔
یہ بحث آنے والے برسوں میں مزید شدت اختیار کرنے کا امکان رکھتی ہے، کیونکہ ڈیجیٹل ذہنی صحت کے حل تیزی سے عام ہو رہے ہیں اور ان کے اثرات براہِ راست انسانی زندگیوں سے جڑ رہے ہیں۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #ArtificialIntelligence, #MentalHealth, #AIChatbots, #TechEthics, #DigitalHealth, #FutureOfAI