دنیا کی سب سے مقبول مصنوعی ذہانت چیٹ سروس اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ OpenAI نے ChatGPT کو صرف ایک چیٹ بوٹ تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک مکمل ڈیجیٹل اسسٹنٹ بنانے کی مہم تیز کر دی ہے۔ اب صارفین صرف گفتگو کے ذریعے سفر کی منصوبہ بندی، کھانے کا آرڈر، گرافک ڈیزائن اور آن لائن خریداری جیسے کئی کام انجام دے سکتے ہیں۔ اس تبدیلی کا مقصد چیٹ جی پی ٹی کو روزمرہ کی زندگی کا مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم بنانا ہے۔
اکتوبر 2025 میں ہونے والی OpenAI DevDay 2025 کے دوران اس فیچر کا آغاز صرف چند شراکت دار کمپنیوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔ مگر اب یہ نظام تیزی سے پھیل رہا ہے اور متعدد بڑی عالمی سروسز اس میں شامل ہو چکی ہیں۔ ان میں Uber، DoorDash، Target Corporation، Wix اور Angi جیسے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صارفین Spotify، Expedia Group، Booking.com، Canva، Figma اور Quizlet جیسی خدمات بھی براہ راست چیٹ کے اندر استعمال کر سکتے ہیں۔
اس سسٹم کو استعمال کرنے کا طریقہ انتہائی آسان رکھا گیا ہے۔ صارف اگر پیغام کے آغاز میں کسی ایپ کا نام لکھ دے تو چیٹ جی پی ٹی اسے خودکار طور پر اس سروس سے جوڑنے کی رہنمائی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی لکھے کہ “Spotify ایک ڈنر پارٹی کے لیے پلے لسٹ بناؤ” تو چیٹ جی پی ٹی موسیقی منتخب کر کے پلے لسٹ تیار کر سکتا ہے۔ اسی طرح سفر کے لیے Uber سے سواری بک کرنا، یا کھانے کے لیے DoorDash سے آرڈر دینا بھی چیٹ کے اندر ممکن ہو جاتا ہے۔ اکاؤنٹ لنک کرنے کے بعد نقشے، پلے لسٹ، بکنگ فارم اور خریداری کے کارٹ جیسے انٹرایکٹو عناصر براہ راست گفتگو کے اندر ظاہر ہوتے ہیں۔
یہ نیا ماڈل دراصل ایک بڑے ایپ ماحولیاتی نظام کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ اس کے پیچھے Model Context Protocol نامی ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے جس کے ذریعے مختلف کمپنیوں کی سروسز کو مصنوعی ذہانت کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر DoorDash کا نظام صارفین کو کھانے کے منصوبے بنانے اور انہیں خریداری کی فہرست میں تبدیل کرنے کی سہولت دیتا ہے جسے بعد میں مختلف اسٹورز سے آرڈر کیا جا سکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اوپن اے آئی کی دوسری کوشش ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے گرد ایک ایپ ایکو سسٹم قائم کیا جائے۔ اس سے پہلے 2024 میں متعارف ہونے والا جی پی ٹی اسٹور زیادہ کامیاب نہ ہو سکا تھا۔ مگر اس مرتبہ کمپنی براہ راست بڑی برانڈز کے ساتھ شراکت داری کر رہی ہے۔ چیٹ جی پی ٹی کے مبینہ طور پر چار سو ملین سے زیادہ ہفتہ وار صارفین ہونے کی وجہ سے یہ پلیٹ فارم کاروباری اداروں کے لیے ایک طاقتور ڈیجیٹل مارکیٹ بھی بن سکتا ہے۔
اگر یہ حکمت عملی کامیاب ہو جاتی ہے تو مستقبل میں ایک ایسا منظر سامنے آ سکتا ہے جہاں لوگ مختلف ایپس کھولنے کے بجائے صرف ایک چیٹ کے ذریعے اپنی روزمرہ کی بیشتر ڈیجیٹل سرگرمیاں مکمل کر سکیں گے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے