چین کی فیکٹریوں اور کیمپسز میں ایک نیا منظر ابھر رہا ہے، جہاں انسان اور مشین کے درمیان فرق ہر گزرتے مہینے کے ساتھ دھندلا رہا ہے۔ نِنگبو کی جی زیکا فیکٹری کبھی ہزاروں مزدوروں سے آباد رہتی تھی، مگر اب وہی پروڈکشن لائنیں خودکار روبوٹس چلا رہے ہیں۔ انسان صرف نگرانی کے مقام پر رہ گیا ہے۔ یہ تبدیلی صرف کار ساز صنعت کی کہانی نہیں بلکہ اس معاشرتی دباؤ کی علامت بھی ہے جو چین میں بڑھتی بے روزگاری اور تیز رفتار آٹومیشن کے درمیان جنم لے رہا ہے۔
اسی بدلتے ماحول میں، ہانگژو کے نوجوانوں نے ٹیکنالوجی کو محض کام کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنی شناخت کا حصہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ کچھ لوگ دباؤ سے تھک کر "تَانگ پِنگ" یعنی لیٹ جانے کا راستہ اختیار کرتے ہیں، جبکہ دوسروں نے AI کو اپنی نئی سماجی زندگی میں بدل دیا ہے۔ "Second Me" جیسی ایپس نوجوانوں کو ایک ڈیجیٹل جڑواں بنانے کی سہولت دیتی ہیں، جو ان کے خیالات، پسند اور گفتگو کے انداز کو اپناتا ہے اور اُنہی جیسے دوسرے ڈیجیٹل کرداروں سے رابطہ بناتا ہے۔ اس نسل کے لیے یہ ٹیکنالوجی فرار نہیں بلکہ ایک نئی شناخت کی تعمیر ہے۔
چین بھر میں اب "Little Dragons" کے نام سے پہچانے جانے والے درجنوں اسٹارٹ اپ اُبھرتے نظر آتے ہیں، جو AI glasses سے لے کر مقامی اساطیری کہانیوں پر مبنی AAA گیمز تک بنا رہے ہیں۔ حکومت ان کمپنیوں کو اس لیے سہارا دیتی ہے کیونکہ وہ مستقبل کو AI اور فزیکل ہارڈویئر کے امتزاج سے آگے بڑھتا دیکھتی ہے۔ مگر ساتھ ہی باہر کی دنیا، خاص طور پر امریکہ، ان ٹیکنالوجیز پر شکوک بھی ظاہر کرتی ہے۔ ڈیٹا کس کے پاس جائے گا؟ نگرانی کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ اور تخلیق کہاں ختم؟
ان سوالات کے باوجود چین کے نوجوان تخلیق کاروں میں ایک غیر معمولی اعتماد دکھائی دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پہچان لیبل میں نہیں بلکہ اس تخلیق میں ہے جو وہ کر رہے ہیں۔ چاہے فیشن ہو، سوشل نیٹ ورکس، یا اڑنے والی خودکار ٹیکسیاں، چین AI کی دوڑ صرف سافٹ ویئر سے نہیں، پورے ماحولیاتی نظام کی سطح پر لڑ رہا ہے۔
امریکہ میں AI ببل کے پھٹنے کی پیشگوئیاں ہو رہی ہیں، مگر چین اس وقت AI کے ساتھ وہی کر رہا ہے جو اس نے الیکٹرونکس اور مینوفیکچرنگ کے ساتھ کیا تھا۔ رفتار، پیمانہ، اور مکمل حکومتی پشت پناہی۔
کہانی صرف مشینوں یا ایپس کی نہیں۔ یہ اس ملک کی کہانی ہے جو ایک پوری نسل کے خوابوں، دباؤ، جدوجہد اور امیدوں کو AI کے ذریعے دوبارہ ڈھالنا چاہتا ہے۔ اور وہ دور شاید زیادہ دور نہیں، جب چین کی بلند اُڑان صرف میٹاورس یا سافٹ ویئر میں نہیں بلکہ آسمان میں اُڑتی خودکار ٹیکسیوں میں نظر آئے گی۔
"یہ تحریر اے آئی کی دنیا فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے"