چین نے ایک نیا اوپن سورس فریم ورک AgentScope متعارف کرا دیا ہے، جو صرف ایک ٹول نہیں بلکہ مکمل “Agent-Oriented Programming” کا نیا تصور پیش کرتا ہے۔ یہ فریم ورک اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ آپ صرف اپنا مقصد بیان کریں، اور باقی پورا AI سسٹم خود تیار ہو جائے۔
اAgentScope کو Alibaba DAMO Academy نے تیار کیا ہے، جو پہلے ہی Qwen جیسے طاقتور ماڈلز کے پیچھے کام کر چکی ہے۔ اس فریم ورک کی خاص بات یہ ہے کہ یہ روایتی چیٹ بوٹس یا API بیسڈ سسٹمز سے آگے جا کر مکمل ملٹی ایجنٹ سسٹم خود تیار کرتا ہے، جہاں مختلف AI ایجنٹس ایک ٹیم کی طرح کام کرتے ہیں۔
اس سسٹم میں ویژول ایجنٹ ڈیزائن، میموری، RAG، reasoning اور MCP ٹولز جیسی تمام جدید صلاحیتیں پہلے سے شامل ہیں۔ یعنی آپ کو الگ الگ چیزیں جوڑنے کی ضرورت نہیں، بلکہ پورا ایک مربوط سسٹم ایک ساتھ کام کرتا ہے۔ ہر ایجنٹ اپنے فیصلے یاد رکھتا ہے، خود سوچتا ہے، غلطیوں کو درست کرتا ہے اور دوسرے ایجنٹس کے ساتھ مل کر نتیجہ فراہم کرتا ہے۔
اس کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ صرف پروٹوٹائپ بنانے کا ٹول نہیں بلکہ ایک مکمل پروڈکشن لیول فریم ورک ہے، جسے آپ لوکل سسٹم، کلاؤڈ یا Kubernetes ماحول میں بھی ڈپلائے کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اب AI ایجنٹس صرف تجرباتی نہیں بلکہ حقیقی بزنس اور آٹومیشن سسٹمز کا حصہ بن سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ AI اب صرف سوال جواب یا چیٹ بوٹس تک محدود نہیں رہا، بلکہ ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں خود مختار ایجنٹس پورے ورک فلو کو سنبھال سکتے ہیں۔ اور اگر یہ رفتار برقرار رہی تو آنے والے وقت میں سافٹ ویئر ڈیویلپمنٹ، ریسرچ اور بزنس آپریشنز مکمل طور پر تبدیل ہو سکتے ہیں۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے