چین کے ٹیکنالوجی دیو Alibaba Group نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی مرکزی موبائل اے آئی ایپ Tongyi کا نام بدل کر Qwen رکھ رہی ہے، جو اس کے مشہور اے آئی ماڈل پر مبنی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ نیا ورژن آئندہ چند ماہ میں iOS اور Android دونوں پر اپ ڈیٹ کے طور پر دستیاب ہوگا، جس میں رفتہ رفتہ ایسے “ایجنٹک اے آئی فیچرز” شامل کیے جائیں گے جو صارفین کو براہِ راست Taobao جیسے شاپنگ پلیٹ فارمز پر مدد فراہم کریں گے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی ٹیکنالوجی کی دنیا میں اب چینی اے آئی ماڈلز تیزی سے جگہ بنا رہے ہیں۔ Airbnb کے سی ای او Brian Chesky نے اکتوبر میں انکشاف کیا کہ ان کی کمپنی کا کسٹمر سروس سسٹم اب Alibaba کے Qwen ماڈل پر چل رہا ہے۔ ان کے بقول یہ “بہت تیز، مؤثر اور سستا” ہے، جب کہ انہوں نے اعتراف کیا کہ ChatGPT ابھی “اس درجے کی تیاری میں نہیں” تھا۔
یہ رجحان صرف Airbnb تک محدود نہیں۔ Social Capital کے سی ای او Chamath Palihapitiya نے بھی تصدیق کی کہ ان کی کمپنی نے اپنے کئی اہم اے آئی ورک لوڈز کو Moonshot AI کے Kimi K2 ماڈل پر منتقل کر دیا ہے، کیونکہ وہ کارکردگی میں بہتر اور لاگت میں نمایاں طور پر کم ہے۔
حالیہ تجزیوں کے مطابق چینی کمپنیوں کے اے آئی ماڈلز عالمی سطح پر تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ OpenRouter کی رپورٹ کے مطابق پچھلے ہفتے دنیا کے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے 20 اے آئی ماڈلز میں سے 7 چینی کمپنیوں کے تھے ، جن میں MiniMax، DeepSeek، Moonshot، اور Alibaba Qwen شامل ہیں۔
قابلِ ذکر یہ ہے کہ Alibaba Qwen اب دنیا کا سب سے بڑا اوپن سورس اے آئی فیملی ماڈل بن چکا ہے۔ اکتوبر تک اس کے 540 ملین سے زائد ڈاؤن لوڈز ہو چکے ہیں، جو Meta کے Llama ماڈل سے بھی زیادہ ہیں۔ صرف Hugging Face پلیٹ فارم پر Qwen کے 385 ملین ڈاؤن لوڈز رپورٹ ہوئے، جب کہ Llama کے 346 ملین۔
چینی کمپنیوں کی برتری کی سب سے بڑی وجہ ان کا cost advantage ہے۔ AllianceBernstein کے مطابق DeepSeek کی قیمتیں OpenAI کے مقابلے میں 40 گنا کم ہو سکتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چینی کمپنیاں امریکی پابندیوں سے باہر پرانے مگر بہتر بنائے گئے چِپس استعمال کر رہی ہیں اور زیادہ مؤثر ٹریننگ تکنیکس اپنا رہی ہیں۔
اس کی تازہ مثال Moonshot AI کا Kimi K2 Thinking ماڈل ہے، جس نے حال ہی میں GPT-5 اور Claude Sonnet 4.5 دونوں کو کارکردگی کے کئی بینچ مارکس پر پیچھے چھوڑ دیا، حالانکہ اس کی ٹریننگ لاگت صرف 4.6 ملین امریکی ڈالر تھی۔
علی بابا کا یہ قدم صرف برانڈنگ اپ ڈیٹ نہیں بلکہ عالمی اے آئی دوڑ میں ایک علامتی چیلنج بھی ہے۔ چین کی کمپنیاں اب صرف پیچھے نہیں بلکہ میدان کے درمیان کھڑی ہیں ، تیز، سستی اور کھلے سورس کے ہتھیاروں سے لیس۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔