علی بابا کے Qwen 3 ماڈل کو 2025 کا بہترین اوپن سورس اے آئی ماڈل قرار دیا گیا ہے، اور اس وقت دنیا بھر میں بننے والے تقریباً نصف کسٹم اے آئی ماڈلز اسی ٹیکنالوجی پر چل رہے ہیں۔ اس کامیابی کی ایک بڑی وجہ Qwen کا کاروبار دوست کمرشل لائسنس ہے، جو کمپنیوں کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ ماڈل کو اپنے ہی سرورز پر چلا سکیں، حساس ڈیٹا کو باہر بھیجے بغیر۔ اسی خصوصیت نے Qwen کو ان اداروں کے لیے خاص طور پر پرکشش بنا دیا ہے جو ڈیٹا پر مکمل کنٹرول اور پرائیویسی کو ترجیح دیتے ہیں۔
تحقیقی اداروں MIT اور Hugging Face کی ایک رپورٹ کے مطابق، اگست 2024 سے اگست 2025 کے درمیان اوپن سورس اے آئی ماڈلز کی عالمی ڈاؤن لوڈز میں چینی ماڈلز کا حصہ 17.1 فیصد تک پہنچ گیا، جو پہلی بار امریکہ کے 15.8 فیصد حصے سے زیادہ ہے۔ اس نمایاں تبدیلی میں Qwen اور DeepSeek جیسے ماڈلز نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ اوپن سورس اے آئی میں طاقت کا توازن بتدریج مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔
اQwen 3 کی بڑھتی ہوئی مقبولیت صرف چین تک محدود نہیں رہی۔ کئی بڑی امریکی کمپنیاں بھی اس ماڈل کو سنجیدگی سے اپنا رہی ہیں۔ ان میں Meta جیسے بڑے نام شامل ہیں، جو Qwen اور دیگر چینی ماڈلز کو اپنی اندرونی تحقیق، ماڈل ٹریننگ اور پراڈکٹ ڈیولپمنٹ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت اس تاثر کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ اوپن سورس اے آئی میں مسابقت اب صرف امریکی کمپنیوں تک محدود نہیں رہی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ Qwen 3 کی کامیابی نے اوپن سورس اے آئی کے مستقبل کے بارے میں ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے: کیا آنے والے برسوں میں اوپن سورس ماڈلز کی قیادت چین کے ہاتھ میں ہو گی؟ فی الحال، اعداد و شمار اور عالمی اپنانے کے رجحانات یہی اشارہ دیتے ہیں کہ Qwen جیسے ماڈلز نہ صرف تکنیکی سطح پر بلکہ تجارتی اعتبار سے بھی ایک مضبوط اور پائیدار متبادل بن چکے ہیں.
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya,#Qwen,#AlibabaAI,#OpenSourceAI,#ChineseAI,#DeepSeek,#FutureOfAI