مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک دلچسپ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب اوپن اے آئی نے فخر سے اعلان کیا کہ اب صارفین ماڈل کے ساتھ بات چیت بھی جاری رکھ سکتے ہیں جبکہ ان کا نیا ڈیپ ریسرچ ٹول اطمینان سے بیس منٹ تک سوچتا رہتا ہے۔ یہ مدت اتنی ہے کہ انسان ایک مکمل ٹی وی ایپی سوڈ بھی دیکھ سکتا ہے یا آرام سے چائے بنا کر پی سکتا ہے۔
یہ اعلان ایک طنزیہ احساس بھی جگاتا ہے کہ جدید ترین ٹیکنالوجی آخر کس رفتار سے کام کر رہی ہے۔ ایک ایگزیکٹو کے مطابق سسٹم کی رفتار بظاہر ایسی ہے جیسے کوئی بہت آہستہ چلنے والا جانور سکون سے جھپکی لیتا ہوا آگے بڑھ رہا ہو، اور اسی خصوصیت کو فیچر بنا کر پیش کر دیا گیا ہے۔
صارفین کے تجربات بھی کچھ کم مزاحیہ نہیں۔ ایک بیٹا ٹیسٹر نے بتایا کہ وہ ماحولیات سے متعلق سوال پوچھ کر اتنا وقت نکال سکے کہ چائے بنائی، بلی کے مسائل پر سوچا، ٹیکس فائل کیے اور جب سارے کام مکمل ہو گئے تو سسٹم نے جواب پیش کر دیا۔ اس منظر نے پرانے انٹرنیٹ دور کی یاد تازہ کر دی جب ڈائل اپ کنیکشن کے ساتھ انتظار بھی ایک مستقل عمل تھا۔
کمپنی نے مستقبل میں ایسے فیچرز کا اشارہ بھی دیا ہے جہاں انتظار کے دوران ماڈل صارف سے وقتاً فوقتاً جملے کہہ کر ساتھ نبھاتا رہے گا، جیسے کسی دوست کی طرح یقین دہانی کہ وہ سوچنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ تاہم اس کے لیے آپکو یقینا" پریمیم ویٹنگ پلس فیچر لینا پڑے گا۔
یہ طنز دراصل مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں ابھرنے والے اس خلا کی طرف نشانہ ہے جہاں رفتار کے دعوے اور حقیقت کبھی کبھی بالکل مختلف رخ پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ ایسی اپڈیٹس اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں کہ ٹیکنالوجی جتنی جدید ہوتی جا رہی ہے، اتنی ہی اس کی کمزوریاں بھی نمایاں ہو رہی ہیں۔ صارفین کے لیے نتیجہ وہی پرانا ہے: کبھی جواب جلدی، کبھی اتنا انتظار کہ خود ہی مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکے۔
یہ تحریر طنزیہ ہے، مگر ٹیکنالوجی کے وعدوں اور زمینی حقائق کے درمیان فرق پر ہلکی سی روشنی بھی ڈالتی ہے۔
اے آئی کی دنیا