ایک نئی رپورٹ نے مصنوعی ذہانت، گیمنگ اور قومی سلامتی کے درمیان تعلق پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق Niantic Spatial نے Pokémon Go کھیلنے والے صارفین کی جانب سے برسوں میں جمع کیے گئے تقریباً 30 ارب (30 Billion) ماحولیاتی اسکینز استعمال کر کے ایسا Visual Positioning System (VPS) تیار کیا ہے جو GPS کے بغیر بھی مقام کا تعین کر سکتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی موبائل فون یا روبوٹ کو صرف کیمرے سے اردگرد کے ماحول کو دیکھ کر اپنی درست پوزیشن معلوم کرنے میں مدد دیتی ہے، حتیٰ کہ ایسے علاقوں میں بھی جہاں GPS کام نہ کر رہا ہو یا جان بوجھ کر بند کر دیا گیا ہو۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی نے دسمبر 2025 میں دفاعی کمپنی Vantor کے ساتھ شراکت داری کی، جس کے تحت اس ٹیکنالوجی کو فوجی ڈرونز اور خودکار روبوٹس میں استعمال کیا جا رہا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں GPS سگنلز دستیاب نہیں ہوتے۔
کمپنی کا مؤقف ہے کہ کھلاڑیوں نے گیم استعمال کرتے وقت Terms of Service کے ذریعے اپنے ڈیٹا کے استعمال پر رضامندی دی تھی۔
تاہم ڈیجیٹل اخلاقیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار جب صارفین کا ڈیٹا اے آئی ماڈلز کی تربیت میں استعمال ہو جائے تو بعد میں یہ ثابت کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے کہ آیا وہ معلومات اب بھی ماڈل کا حصہ ہیں یا نہیں۔
یہ معاملہ ایک بار پھر یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا تفریح کے لیے استعمال ہونے والی ایپس سے جمع ہونے والا ڈیٹا مستقبل میں ایسے مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتا ہے جن کا صارفین نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو۔
ماخذ:
Trouw (Netherlands), TVP World، Niantic Spatial — June 2026
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے