سائبر سیکیورٹی کے میدان میں ایک بڑا اتحاد سامنے آیا ہے جہاں Anthropic نے Project Glasswing کے تحت چالیس سے زائد ٹیکنالوجی پارٹنرز کے ساتھ مل کر ایک طاقتور اے آئی ماڈل متعارف کرایا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایسے خطرناک سیکیورٹی مسائل کو تلاش کرنا اور حل کرنا ہے جو عام طور پر پوشیدہ رہتے ہیں۔
اس منصوبے میں Apple Inc.، Amazon.com, Inc.، Microsoft Corporation اور Alphabet Inc. جیسی بڑی کمپنیاں شامل ہیں، جو مل کر “zero-day vulnerabilities” یعنی ایسے سیکیورٹی خطرات کی نشاندہی کر رہی ہیں جن کا ابھی تک کوئی حل موجود نہیں ہوتا۔
اس منصوبے کے تحت Claude Mythos Preview نامی ماڈل استعمال کیا جا رہا ہے، جس نے تجربات میں تقریباً بہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے 72 فیصد سے زائد کامیابی کے ساتھ سسٹمز میں کمزوریاں تلاش کیں۔ تاہم ایک اہم بات یہ بھی سامنے آئی کہ ان میں سے 99 فیصد سے زیادہ خامیاں ابھی تک درست نہیں کی گئیں اور انہیں عام نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب International Business Machines Corporation کے ماہرین کا موقف ہے کہ جیسے جیسے اے آئی بنیادی انفراسٹرکچر بنتی جا رہی ہے، اس کی سیکیورٹی کے لیے اوپن سورس ماڈل زیادہ مؤثر ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق زیادہ شفافیت اور وسیع پیمانے پر جانچ ہی حقیقی تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔
یہ صورتحال ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا سیکیورٹی کے لیے طاقتور اے آئی کو محدود رکھنا بہتر ہے یا اسے کھلا چھوڑ کر اجتماعی نگرانی کے حوالے کرنا چاہیے۔ آنے والے وقت میں یہی فیصلہ طے کرے گا کہ ڈیجیٹل دنیا کتنی محفوظ ہو سکتی ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #Anthropic, #CyberSecurity, #ArtificialIntelligence, #TechNews, #FutureTech