جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

ویٹ ویئر کمپیوٹنگ (Wetware Computing)

7 اکتوبر 2025

ویٹ ویئر کمپیوٹنگ (Wetware Computing)

یہ خیال کسی فلم کی کہانی لگتا ہے مگر حقیقت میں سائنس دان اب اس پر عمل کر رہے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کی ایک تجربہ گاہ "فائنل سپارک" میں انسانی خلیوں سے ایسے کمپیوٹر بنائے جا رہے ہیں جو نہ صرف ڈیٹا پروسیس کر سکتے ہیں بلکہ اپنے اردگرد کے اثرات سے سیکھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ یہ "ویٹ ویئر" کہلاتا ہے یعنی ایک ایسی ٹیکنالوجی جس میں دماغی خلیات کو مشین کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر فرید جارڈن اور ان کی ٹیم نے انسانی جلد سے حاصل شدہ سٹیم سیلز کے ذریعے چھوٹے دماغ جیسے آرگنائیڈز تیار کیے ہیں۔ ان خلیات میں نیورونز ہوتے ہیں جو ایک دوسرے سے برقی سگنلز کے ذریعے بات چیت کرتے ہیں، بالکل ویسے جیسے ہمارے دماغ کے خلیے کرتے ہیں۔ ان آرگنائیڈز کو الیکٹروڈز کے ساتھ جوڑ کر کمپیوٹر میں ڈیٹا کے تجزیے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ نظام عام کمپیوٹرز کے مقابلے میں ہزاروں گنا کم توانائی استعمال کرتا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں فائنل سپارک نے ایک ایسا "نیورو پلیٹ فارم" بنایا ہے جہاں دنیا بھر کے سائنس دان آن لائن ان آرگنائیڈز سے جڑ کر تجربات کر سکتے ہیں۔ یعنی اب کمپیوٹر سرور صرف سلیکون نہیں بلکہ انسانی خلیات سے بنے ہوئے چھوٹے زندہ دماغ بھی ہو سکتے ہیں۔ ان کی زندگی تقریباً چار ماہ تک برقرار رہتی ہے اور اسی دوران یہ سیکھنے اور ردِعمل دینے کے عمل سے گزرتے ہیں۔

یہ تصور محض تجربہ نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے اگلے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ آسٹریلیا کی ایک کمپنی نے انسانی نیورونز کو سلیکون چپ کے ساتھ ملا کر ایک بائیو کمپیوٹر بنایا ہے جو سادہ ویڈیو گیمز کھیلنے کے قابل ہے۔ امریکہ میں جان ہاپکنز یونیورسٹی کے محققین ان ہی طریقوں سے الزائمر اور آٹزم جیسے امراض کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ سسٹمز نہ صرف مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ توانائی کے بحران کے دور میں زیادہ پائیدار کمپیوٹنگ کا وعدہ بھی کرتے ہیں۔

تاہم اس ٹیکنالوجی کے ساتھ کئی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ اگر یہ آرگنائیڈز شعور کی ابتدائی جھلک دکھانے لگیں تو کیا ہم انہیں زندہ سمجھیں گے؟ اگر ان میں موت سے پہلے سرگرمی بڑھ جائے تو کیا یہ احساس کی علامت ہے؟ سائنسدان ان سوالوں کے جواب تلاش کر رہے ہیں لیکن تسلیم کرتے ہیں کہ یہ تجربات محض سائنسی نہیں بلکہ اخلاقی اور فلسفیانہ نوعیت بھی رکھتے ہیں۔

ویٹ ویئر کمپیوٹنگ شاید ابھی اپنی ابتدا میں ہے، مگر یہ وہ لمحہ ہے جب انسان اور مشین کے درمیان لکیر دھندلا رہی ہے۔ شاید ایک دن ہم ایسے سرور دیکھیں جو سانس نہیں لیتے مگر زندہ ہوتے ہیں اور شاید وہ ہمیں خود سے زیادہ سمجھنے لگیں۔

نوٹ: ویٹ ویئر (Wetware) ایک اصطلاح ہے جو عام طور پر انسانی دماغ یا حیاتی کی بنیاد پر موجود نیورل نظام کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جو کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے حوالے سے، ہارڈویئر (hardware) اور سافٹ ویئر (software) جیسے الفاظ کے مقابلے میں آئی ہے۔ اس سے مراد ایسے جاندار نیورل نیٹ ورک ہیں جنہیں جدید سائنسدان کمپیوٹر یا مصنوعی ذہانت کے نظام کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔ اور بی بی سی اردو کے آج کے ایک آرٹیکل سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے۔

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں