ونڈوز اب روایتی آپریٹنگ سسٹم نہیں رہ گا۔ مائیکروسافٹ نے اسے ایک ایسے پلیٹ فارم میں بدلنا شروع کر دیا ہے جہاں AI ایجنٹس خود سے کام مکمل کر سکیں، پی سی کو کنٹرول کر سکیں اور پسِ منظر میں پیچیدہ ٹاسک چلا سکیں۔ نئے فیچرز کا مرکز Windows 11 کا ٹاسک بار ہے، جہاں AI ایجنٹس اب براہِ راست ایک سسٹم لیول اسسٹنٹ کی طرح شامل کیے جا رہے ہیں۔
مائیکروسافٹ کے مطابق مقصد یہ ہے کہ صارفین کو وہ تمام صلاحیتیں دی جائیں جو آج صرف جدید AI ماڈلز فراہم کرتے ہیں۔ ٹاسک بار میں شامل ایجنٹس فائلوں تک رسائی رکھتے ہیں، ڈیٹا ریسرچ کر سکتے ہیں، اور دہرائے جانے والے وقت طلب کام خودکار طریقے سے مکمل کر سکتے ہیں۔ جب کوئی ٹاسک دیا جائے تو ایجنٹ پسِ منظر میں چلتے رہتے ہیں، اور ٹاسک بار پر ان کی پیش رفت دکھائی جاتی ہے۔ اگر کسی مرحلے پر مدد درکار ہو تو ایجنٹ براہِ راست ٹاسک بار سے اشارہ دیتا ہے، اور مکمل ہونے پر اطلاع بھی وہیں ظاہر ہوتی ہے۔
نئے Ask Copilot فیچر کے ذریعے مقامی سرچ اور AI کو ایک جگہ فراہم کر دیا گیا ہے۔ اب کسی بھی فائل، سیٹنگ یا سوال کے لیے تیز رفتار سرچ کے ساتھ ساتھ Microsoft 365 Copilot سے گفتگو بھی اسی جگہ ممکن ہے۔ بڑے ایپ ونڈوز کھولنے کے بجائے ایک فلوٹنگ ونڈو نظر آتی ہے، جو انٹرایکشن کو زیادہ ہموار بناتی ہے۔
سیکیورٹی کے لیے ایجنٹس کو ایک الگ ورک اسپیس فراہم کی گئی ہے جو بنیادی ڈیسک ٹاپ سے علیحدہ کام کرتا ہے۔ ہر ایجنٹ کو اس کا اپنا محدود ماحول ملتا ہے، تاکہ غلطی یا غلط عمل براہِ راست صارف کے سیشن کو متاثر نہ کر سکے۔ اس پورے نظام کو Model Context Protocol کے ذریعے بنایا گیا ہے، جو ایجنٹس کو محفوظ طریقے سے ٹولز اور دیگر ایجنٹس تلاش کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔
ونڈوز کی AI تبدیلی ٹاسک بار تک محدود نہیں۔ فائل ایکسپلورر میں موجودہ دستاویزات کا خلاصہ، سوالات کے جواب، اور ای میل ڈرافٹس تیار کرنا اب براہِ راست Copilot کے ذریعے ممکن ہو جائے گا۔ Click to Do کو بھی بہتر بنایا گیا ہے، جو کسی بھی ویب یا ایپ میں موجود ٹیبلز کو Excel فائل میں تبدیل کر دیتا ہے، جہاں کلاؤڈ بیسڈ Copilot ماڈلز مزید ترمیم کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔
یہ واضح ہے کہ مائیکروسافٹ دو سطحوں پر AI متعارف کرا رہا ہے۔ ایک طرف Copilot Plus PCs کے ذریعے لوکل AI، جو آف لائن کام کرتا ہے، اور دوسری طرف کلاؤڈ بیسڈ AI، جو زیادہ طاقتور ماڈلز کے ساتھ گہرے تجزیات فراہم کرتا ہے۔ ونڈوز 365 جیسے کلاؤڈ پی سیز میں دونوں سطحوں کی خصوصیات یکجا ہیں، جس سے مستقبل کا ونڈوز ایک مکمل “ایجنٹک OS” بنتا دکھائی دیتا ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔