اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو Sam Altman کے مطابق آنے والی دہائی نہ صرف نوکریوں بلکہ خود “کیرئیر” کے تصور کو بھی ازسرِنو متعین کر دے گی۔ ایک حالیہ انٹرویو میں آلٹمین نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی پہلے بڑے پیمانے پر خلل پیدا کرے گی، اور اس کے بعد ہی نئے، غیر معمولی مواقع جنم لیں گے۔
ان کے بقول، 2035 کے آس پاس گریجویشن کرنے والے طلبہ ممکن ہے روایتی جاب مارکیٹ میں داخل ہی نہ ہوں۔ نہ آفس کی نوکریوں کے لیے درخواستیں، نہ ہی کارپوریٹ سیڑھی چڑھنے کا روایتی راستہ۔ اس کے برعکس، وہ ایسی صنعتوں میں کام کرتے نظر آ سکتے ہیں جو آج بمشکل وجود رکھتی ہیں، اور جہاں تنخواہیں اور مواقع موجودہ معیار سے کہیں زیادہ ہوں گے۔
سام آلٹمین کے مطابق، ان میں سے بعض شعبے خلائی تحقیق اور دیگر “فرنٹیئر ٹیکنالوجیز” سے جڑے ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسا وقت آ سکتا ہے جب نوجوان پیشہ ور افراد نظامِ شمسی کی کھوج جیسے مشنز کا حصہ بنیں، جہاں کام نہ صرف ذہنی طور پر چیلنجنگ ہو بلکہ غیر معمولی حد تک معاوضہ بھی رکھتا ہو۔ ان کے نزدیک یہ سب اسی وقت ممکن ہو گا جب اے آئی آج کے زیادہ تر معمولی اور علم پر مبنی کام خود سنبھال لے گی۔
تاہم، آلٹمین نے اس روشن مستقبل کے ساتھ ایک سخت حقیقت بھی بیان کی۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی ہموار نہیں ہو گی۔ بلند تنخواہوں اور دلچسپ کیرئیرز کا وعدہ اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک لیبر مارکیٹ ایک تکلیف دہ دور سے نہ گزرے۔ خاص طور پر ابتدائی درجے کی وہ نوکریاں جو دہرائے جانے والے یا پیش گوئی کے قابل کاموں پر مبنی ہیں، غالب امکان ہے کہ مکمل طور پر ختم ہو جائیں، اس سے پہلے کہ نئی ملازمتیں سامنے آئیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ خاص طور پر جنرل زی (Gen Z) کے افراد سے “حسد” محسوس کرتے ہیں، کیونکہ وہ اپنے کیرئیر کا آغاز اسی بڑی تبدیلی کے ابتدائی مرحلے میں کر رہے ہیں۔ آلٹمین کے مطابق یہ نسل زیادہ بہتر انداز میں خود کو ڈھال سکے گی، تجربات کرے گی اور اے آئی کے ساتھ ابھرتے ہوئے ٹولز کی لہر پر سوار ہو گی۔ انہوں نے مزاحاً یہ بھی کہا کہ شاید مستقبل کی نسلیں آج کے پیشہ ور افراد پر ترس کھائیں، جنہیں نسبتاً بور اور پرانے طرز کے کام کرنے پڑے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آلٹمین نے خود اپنی پوزیشن کے حوالے سے بھی غیر معمولی صاف گوئی کا مظاہرہ کیا۔ ایک الگ گفتگو میں انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ مستقبل میں اے آئی خود انہیں بطور سی ای او بھی بدل دے گی۔ ان کے نزدیک یہ کوئی خطرہ نہیں بلکہ ایک ہدف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر OpenAI ان اولین بڑی کمپنیوں میں شامل نہ ہوئی جنہیں اعلیٰ سطح پر اے آئی چلاتی ہو، تو وہ اسے ناکامی سمجھیں گے۔
آلٹمین کے مطابق وہ باقاعدگی سے اس بات پر غور کرتے ہیں کہ ایک اے آئی سسٹم کو کس حد تک بہتر ہونا چاہیے کہ وہ ادارے کی قیادت انسانوں سے بہتر انداز میں کر سکے۔ ان کا اندازہ ہے کہ یہ وقت توقع سے کہیں جلد آ سکتا ہے، اور ممکن ہے چند ہی برسوں میں اے آئی بڑے محکموں کی حکمتِ عملی، فیصلوں اور عمل درآمد کو انسانوں کے برابر یا اس سے بہتر سطح پر سنبھال لے۔
مجموعی طور پر، سام آلٹمین کا نقطۂ نظر ایک واضح تسلسل رکھتا ہے۔ ان کے نزدیک مصنوعی ذہانت پہلے موجودہ ڈھانچوں کو ہلائے گی، پرانی نوکریاں ختم کرے گی، اور اس کے بعد ہی بالکل نئے معاشی اور پیشہ ورانہ نظام کو جنم دے گی۔ ان کے مطابق، شاندار کیرئیرز اور غیر معمولی تنخواہیں خود بخود نہیں آئیں گی، بلکہ اس کے لیے معاشروں، کمپنیوں اور افراد کو ایک مشکل عبوری دور سے گزرنا ہو گا جہاں نئی مہارتیں ہی اصل سرمایہ بن جائیں گی۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔