29 دسمبر 2025 کو Meta Platforms نے باضابطہ طور پر سنگاپور میں قائم معروف اے آئی ایجنٹ اسٹارٹ اپ Manus کے حصول کا اعلان کر دیا۔ یہ ڈیل صرف ایک اور ٹیک ایکوزیشن نہیں بلکہ میٹا کی 2025 کی اس وسیع حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ ہے جس کے تحت کمپنی روایتی چیٹ بوٹس سے آگے بڑھ کر خودمختار اے آئی ایجنٹس کی دنیا میں داخل ہو رہی ہے، ایسے سسٹمز جو صرف بات نہیں کرتے بلکہ پیچیدہ کام خود انجام دیتے ہیں۔
اس حصول کی مالی تفصیلات میٹا نے سرکاری طور پر ظاہر نہیں کیں، تاہم معتبر رپورٹس کے مطابق اس ڈیل کی مالیت دو ارب ڈالر سے زائد ہے۔ اس کے ساتھ Manus میٹا کی تاریخ کی تیسری بڑی ایکوزیشن بن گئی ہے، جس سے قبل واٹس ایپ کی خریداری اور 2025 میں Scale AI میں چودہ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ یہ اعداد و شمار خود اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ میٹا اب اے آئی کو محض فیچر نہیں بلکہ اپنی آئندہ شناخت کا مرکز بنا رہا ہے۔
قیادت کے حوالے سے بھی یہ ڈیل غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ Manus کے بانی اور سی ای او Xiao Hong میٹا میں نائب صدر کے طور پر شامل ہوں گے، جبکہ Manus کی تقریباً سو افراد پر مشتمل ٹیم کو میٹا کے “Superintelligence Labs” میں ضم کیا جائے گا، جس کی قیادت Alexandr Wang کر رہے ہیں۔ اس اقدام سے واضح ہوتا ہے کہ میٹا ایجنٹک اے آئی کو براہِ راست اپنی اعلیٰ سطحی ریسرچ اور پروڈکٹ ڈویلپمنٹ کے مرکز میں رکھنا چاہتا ہے۔
میٹا کے مطابق Manus اپنی آپریشنل بنیاد سنگاپور میں ہی برقرار رکھے گا۔ کمپنی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ Manus کی موجودہ سبسکرپشن سروسز ختم نہیں کی جائیں گی، بلکہ اس کی ایجنٹک صلاحیتوں کو مرحلہ وار Meta AI، WhatsApp اور Facebook جیسے پلیٹ فارمز میں ضم کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں صارفین کو ایسے اے آئی ٹولز مل سکتے ہیں جو صرف مشورہ دینے کے بجائے عملی طور پر کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
مینس کی اصل کشش اس کی ایجنٹک فطرت ہے۔ یہ روایتی چیٹ بوٹ نہیں بلکہ ایک “ڈیجیٹل ملازم” کے طور پر ڈیزائن کیا گیا سسٹم ہے، جو کلاؤڈ بیسڈ ورچوئل مشینز کے ذریعے ملٹی اسٹیپ ٹاسکس خود مکمل کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر امیدواروں کی اسکریننگ، سفر کی منصوبہ بندی، یا اسٹاک پورٹ فولیوز کا تجزیہ، یہ سب کام Manus بغیر مسلسل انسانی رہنمائی کے انجام دے سکتا ہے۔ یہی وہ صلاحیت ہے جو میٹا کو چیٹ بیسڈ اے آئی سے آگے لے جاتی ہے۔
رفتارِ نمو کے لحاظ سے بھی Manus غیر معمولی رہا ہے۔ مارچ 2025 میں لانچ ہونے والا یہ اسٹارٹ اپ صرف آٹھ ماہ میں ایک سو ملین ڈالر سالانہ ریکرنگ ریونیو تک پہنچ گیا، جو اسے حالیہ برسوں کے تیز ترین ترقی کرنے والے اے آئی اسٹارٹ اپس میں شامل کرتا ہے۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف ٹیکنالوجی بلکہ مارکیٹ کی حقیقی طلب کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔
جغرافیائی سیاست کے تناظر میں بھی یہ ڈیل خاص اہمیت رکھتی ہے۔ Manus کی ابتدا چین میں Butterfly Effect Technology کے تحت ہوئی تھی، مگر 2025 میں امریکی اور چینی ٹیک کشیدگی کے پیشِ نظر کمپنی نے اپنی سرگرمیاں سنگاپور منتقل کر دیں۔ میٹا نے اس موقع پر واضح کیا ہے کہ ڈیل مکمل ہونے کے بعد Manus کے مین لینڈ چین سے باقی تمام تعلقات مکمل طور پر ختم کر دیے جائیں گے، جو میٹا کی ریگولیٹری اور اسٹریٹجک حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ ایکوزیشن میٹا کی 2025 کی دیگر بڑی اے آئی سرگرمیوں کا تسلسل بھی ہے، جن میں wearable AI اسٹارٹ اپ Limitless اور آڈیو اے آئی فرم WaveForms کی خریداری شامل ہیں۔ ان تمام اقدامات کو ایک ساتھ دیکھیں تو تصویر صاف ہو جاتی ہے: میٹا مستقبل کو ایسے اے آئی سسٹمز کے حوالے کر رہا ہے جو بولنے سے زیادہ کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya,#MetaAI,#Manus,#AIAgents,#AutonomousAI,#TechNews,#FutureOfAI