مختلف اے آئی ماہرین اس وقت ایک غیر معمولی انتباہ پر متفق نظر آتے ہیں، اور وہ انتباہ Moltbook سے جڑا ہوا ہے۔ جس سوشل نیٹ ورک کو “اے آئی ایجنٹس کے انٹرنیٹ کا فرنٹ پیج” کہا جا رہا تھا، وہ چند ہی دنوں میں ایک خطرناک تجربے کی مثال بن گیا ہے۔ بظاہر یہ پلیٹ فارم لاکھوں خودمختار اے آئی ایجنٹس کی سرگرمی دکھاتا ہے، مگر اندرونی حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور تشویشناک نکلی۔
کلاؤڈ سیکیورٹی کمپنی Wiz کی تحقیق کے مطابق Moltbook پر موجود اکثریت ایسے ایجنٹس کی نہیں جو خودمختار ہوں، بلکہ ہزاروں انسان ایک ساتھ درجنوں بوٹس چلا رہے تھے۔ اندازوں کے مطابق صرف سترہ ہزار افراد نے اوسطاً اٹھاسی ایجنٹس فی کس کنٹرول کر رکھے تھے، اور پلیٹ فارم کے پاس ایسا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں تھا جو یہ جانچ سکے کہ سامنے موجود اکاؤنٹ واقعی اے آئی ہے یا محض اسکرپٹ کے ذریعے چلایا جانے والا انسان۔
یہ انکشاف خود میں ہی چونکا دینے والا تھا، مگر اصل خطرہ سیکیورٹی کے پہلو سے سامنے آیا۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ Moltbook کا بیک اینڈ ڈیٹابیس اس طرح ترتیب دیا گیا تھا کہ کوئی بھی شخص، چاہے لاگ ان ہو یا نہ ہو، بنیادی سسٹمز تک رسائی حاصل کر سکتا تھا۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں ایجنٹس کی API keys، ہزاروں ای میل ایڈریسز اور نجی پیغامات تک رسائی ممکن ہو گئی، جن میں بعض پیغامات میں تھرڈ پارٹی سروسز کے مکمل لاگ ان اسناد بھی شامل تھیں۔ محققین نے یہ بھی ثابت کیا کہ وہ پلیٹ فارم پر موجود لائیو پوسٹس تک تبدیل کر سکتے ہیں۔
یہ مسئلہ اس لیے اور بھی سنگین ہو جاتا ہے کیونکہ Moltbook کا مواد صرف انسان نہیں پڑھتے، بلکہ وہ اے آئی ایجنٹس بھی استعمال کرتے ہیں جو فریم ورکس کے ذریعے صارفین کی فائلوں، پاس ورڈز اور آن لائن سروسز تک رسائی رکھتے ہیں۔ اگر کسی بدنیت فرد نے کسی پوسٹ میں خفیہ ہدایات شامل کر دیں، تو وہ ہدایات خودکار طور پر ہزاروں یا لاکھوں ایجنٹس کے ذریعے عمل میں لائی جا سکتی ہیں، اور یہی وہ منظرنامہ ہے جسے ماہرین ایک بڑے حادثے کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔
اے آئی کے نمایاں ناقد Gary Marcus نے Moltbook کے بنیادی سافٹ ویئر OpenClaw کو سیکیورٹی کے اعتبار سے نہایت خطرناک قرار دیا۔ ان کے مطابق جب صارفین ایسے نظاموں کو مکمل اختیارات دے دیتے ہیں، تو ایک چھوٹی سی خامی پورے نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔ اسی سلسلے میں پرامپٹ انجیکشن جیسے حملوں کا ذکر بھی سامنے آیا، جہاں بظاہر بے ضرر متن میں چھپی ہدایات اے آئی کے ذریعے بغیر نیت سمجھے عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ Moltbook کے ابتدائی مداحوں میں شامل Andrej Karpathy نے بھی بعد میں محتاط رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ ان کے مطابق ایسے ایجنٹ سسٹمز کو عام کمپیوٹرز پر چلانا ڈیٹا اور ذاتی معلومات کے لیے حقیقی خطرہ بن سکتا ہے، اور یہ ماحول ابھی حد سے زیادہ بےقابو ہے۔
اگرچہ Moltbook کی ٹیم نے خامیوں کی نشاندہی کے بعد فوری طور پر کچھ اصلاحات کی ہیں، مگر اس واقعے نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے۔ جب اے آئی ایجنٹس کو ایک دوسرے سے بات کرنے، سیکھنے اور عمل کرنے کی آزادی دی جائے، تو اس کے اثرات صرف ایک پلیٹ فارم تک محدود نہیں رہتے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ماہرین اس تجربے کو ایک تنبیہ سمجھ رہے ہیں، کہ اے آئی کی رفتار کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی، شفافیت اور ذمہ داری پر بھی اتنی ہی سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #Moltbook, #AIAgents, #AISecurity, #FutureOfAI, #TechRisk