گوگل ڈیپ مائنڈ اور گوگل ریسرچ نے ویدر نیکسٹ 2 پیش کیا ہے جو اب تک کا ان کا سب سے تیز، سب سے زیادہ درست اور سب سے زیادہ اسمارٹ موسمیاتی ماڈل ہے۔ یہ ماڈل پچھلے ورژن سے آٹھ گنا تیزی سے پیش گوئی کرتا ہے اور پورے ایک گھنٹے تک کی ہائی ریزولوشن پیش گوئیاں بناتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ ماڈل ایک ہی ابتدائی ان پٹ سے سینکڑوں مختلف ممکنہ منظرنامے بنا لیتا ہے، تاکہ صرف ایک نتیجے پر بھروسہ نہ کرنا پڑے بلکہ زیادہ حقیقی منصوبہ بندی ممکن ہو سکے۔
یہ ٹیکنالوجی پہلے تجرباتی انداز میں سمندری طوفانوں کی پیش گوئی میں استعمال کی گئی تھی اور اب پہلی بار لیب سے نکل کر عام صارفین، محققین، کاروبار اور ایجنسیوں کے ہاتھ میں پہنچ رہی ہے۔ ویدر نیکسٹ دو کا ڈیٹا اب ارتھ انجن، بگ کوئری اور گوگل کلاؤڈ کے ورٹیکس اے آئی پلیٹ فارم پر دستیاب ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ بڑے نیٹ ورکس، انجینئرنگ ٹیمز اور ایپ ڈیولپرز براہ راست AI موسم ڈیٹا کو اپنی ایپلی کیشنز میں شامل کر سکتے ہیں۔
نئی پیش گوئیوں کی طاقت ایک ایسے نیورل ماڈل سے آتی ہے جو فنکشنل جنریٹو نیٹ ورک کہلاتا ہے۔ اس میں ماڈل کے اندر خاص قسم کا شور شامل کیا جاتا ہے تاکہ موسم کے ہر ممکن رخ کو حقیقت سے قریب طریقے سے سمجھا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ فرداً فرداً درجہ حرارت، نمی اور ہوا کی رفتار جیسے عناصر بھی بہتر انداز میں سیکھتا ہے اور پھر ان سب کو جوڑ کر بڑے موسمی نظاموں کی درست پیش گوئی کرتا ہے۔ اسی لئے ویڈر نیکسٹ دو تقریباً تمام موسمی متغیرات پر پچھلے ورژن سے بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔
یہ ماڈل اب سرچ، جیمنی، پکسل ویدر اور گوگل میپس کے اندر موسم کی نئی اپ ڈیٹس دے رہا ہے۔ اگلے چند ہفتوں میں گوگل میپس کے موسم کے فیچر بھی اسی ٹیکنالوجی سے چلیں گے، جس کا مطلب ہے کہ عالمی صارفین کو پہلے سے زیادہ درست، تیز اور قابل اعتماد معلومات ملیں گی۔
یہ صرف موجودہ کامیابی نہیں، بلکہ مستقبل کی سمت بھی ہے۔ گوگل اب اس ماڈل میں نئی ڈیٹا سورسز شامل کرنے اور زیادہ کھلی رسائی فراہم کرنے پر کام کر رہا ہے تاکہ موسم، ماحول، پانی، زراعت اور توانائی جیسے بڑے عالمی مسائل میں AI مزید مؤثر کردار ادا کر سکے۔
دنیا کے بدلتے موسم کو سمجھنے کے لئے اب نئی دوڑ شروع ہو چکی ہے اور اس بار سب سے آگے وہ ٹیکنالوجی ہے جو مستقبل کے بادلوں کو پہلے ہی پڑھ لیتی ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔