نئی تحقیق نے مصنوعی ذہانت کے بارے میں ایک بنیادی تصور کو چیلنج کر دیا ہے، جہاں اب یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ صرف بڑے ماڈلز بنانا ہی ذہانت کا راز نہیں بلکہ اس کے اندرونی ڈھانچے کی تنظیم زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہے۔ Bar-Ilan University کے سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق اے آئی سسٹمز کے اندر مختلف حصے تربیت کے دوران مخصوص مہارتیں حاصل کر لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں ایک ایسی مجموعی ذہانت پیدا ہوتی ہے جو انفرادی حصوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
اس تحقیق میں بتایا گیا کہ اے آئی کے مختلف “نوڈز” وقت کے ساتھ مخصوص کاموں میں ماہر ہو جاتے ہیں، اور یہی specialization مل کر ایک نئی سطح کی کارکردگی پیدا کرتی ہے۔ یہ تصور انسانی دماغ سے ملتا جلتا ہے جہاں مختلف نیورونز مخصوص ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں اور مل کر پیچیدہ سوچ کو ممکن بناتے ہیں۔
تحقیق کے مرکزی مصنف Ido Kanter نے اس خیال کو روایتی فزکس سے مختلف قرار دیا، جہاں عام طور پر زیادہ اجزاء شامل کرنے سے معلومات میں اضافہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے اس اصول کو “More is the Same” کا نام دیا، مگر اے آئی میں صورتحال مختلف ہے کیونکہ یہاں اجزاء کے درمیان تعاون نئی صلاحیتوں کو جنم دیتا ہے۔
یہ نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مستقبل میں اے آئی کی ترقی صرف ماڈلز کو بڑا بنانے پر نہیں بلکہ انہیں زیادہ بہتر طریقے سے منظم کرنے پر منحصر ہوگی۔ یعنی اصل طاقت حجم میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ سسٹم کے اندر موجود حصے ایک دوسرے کے ساتھ کس حد تک مؤثر انداز میں کام کرتے ہیں۔
یہ نظریہ اے آئی ڈیزائن کے لیے ایک نئی سمت متعین کرتا ہے جہاں کم وسائل کے ساتھ زیادہ ذہین سسٹمز تیار کیے جا سکتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے انسانی دماغ محدود توانائی کے باوجود غیر معمولی کارکردگی دکھاتا ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #ArtificialIntelligence, #MachineLearning, #NeuralNetworks, #AITech, #FutureTech