معروف ادارہ ایم آئی ٹی کے محققین نے مشین لرننگ کے کلاسیکی طریقوں کو سمجھنے اور بہتر بنانے کے لیے ایک منفرد فریم ورک تیار کیا ہے جسے "مشین لرننگ کی پیریاڈک ٹیبل" کا نام دیا گیا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے کیمیائی عناصر کی پیریاڈک ٹیبل سائنسدانوں کو عناصر کے تعلقات سمجھنے اور نئے عناصر دریافت کرنے میں مدد دیتی ہے، یہی طریقہ کار مشین لرننگ الگورتھمز کے باہمی تعلقات اور نئی راہوں کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔اے آئی کی دنیا میں اس نئی اور دلچسپ دریافت نے تحقیق کے کئی مزید دروازے کھول دیے ہیں۔
اس ٹیبل میں بیس سے زائد کلاسیکی الگورتھمز کو جوڑتے ہوئے یہ دکھایا گیا ہے کہ تمام طریقے بنیادی طور پر ڈیٹا پوائنٹس کے درمیان ریلشنشپس کو سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، اگرچہ ان کے طریقے مختلف ہوتے ہیں۔ محققین نے یہ دریافت کیا کہ ان تمام الگورتھمز کی بنیاد ایک ہی بنیادی مساوات پر ہے، اور اسی مساوات کو بنیاد بنا کر ایک ایسا میپ تیار کیا گیا جو نہ صرف موجودہ طریقوں کو منظم کرتا ہے بلکہ ان خالی جگہوں کو بھی پر کرتا ہے جہاں مستقبل میں نئے الگورتھمز تخلیق ہو سکتے ہیں۔
اس فریم ورک کا نام "انفارمیشن کانٹراسٹو لرننگ" یا مختصراً "آئی-کان" رکھا گیا ہے۔ یہ طریقہ نہ صرف مشین لرننگ تکنیکوں کو نئے زاویے سے دیکھنے کی سہولت فراہم کرتا ہے بلکہ مختلف الگورتھمز کو باہم ملا کر بہتر نتائج حاصل کرنے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، محققین نے اس فریم ورک کے ذریعے دو مختلف الگورتھمز کے ایلیمنٹس کو جوڑ کر ایک نیا امیج کلاسیفیکیشن الگورتھم تیار کیا، جو موجودہ جدید ترین طریقوں سے 8 فیصد بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔
اس ٹیبل کی ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ نہ صرف ماضی کے سیکھے گئے طریقوں کو بہتر سمجھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ محققین کو نئے تصورات تک پہنچنے کے لیے ایک واضح راستہ بھی فراہم کرتی ہے۔ شادن الشمری، جو اس تحقیق کی مرکزی مصنفہ ہیں، کہتی ہیں کہ یہ محض ایک تصوراتی سوچ نہیں بلکہ مشین لرننگ کو ایک منظم اور قابل دریافت شعبہ بنانے کی سمت میں ایک عملی قدم ہے۔
محققین نے یہ بھی ثابت کیا کہ آئی-کان فریم ورک کی مدد سے وہ ایسے الگورتھمز تخلیق کر سکتے ہیں جو پہلے صرف نظریاتی سطح پر موجود تھے۔ یہ فریم ورک تحقیق کاروں کو اس لامتناہی علمی سمندر میں ایک واضح راستہ فراہم کرتا ہے جہاں ہر سال ہزاروں تحقیقی مقالے شائع ہوتے ہیں۔ اس قسم کے یکجا اور منظم نظریات چونکہ نایاب ہوتے ہیں، اس لیے آئی-کان کو ایک انقلابی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس تحقیقی کام کی مالی معاونت ایئر فورس آرٹیفیشل انٹیلی جنس ایکسلریٹر، نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کے مصنوعی ذہانت کے ادارے اور کوانٹا کمپیوٹر نے فراہم کی۔ ان تمام کوششوں نے مل کر ایک ایسا خواب حقیقت بنا دیا ہے جس کی بدولت مشین لرننگ کے مستقبل میں نئی راہیں کھلنے کا امکان ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔