جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

مشینوں کا معاشی خودکفالت کا آغاز

24 فروری 2026

مشینوں کا معاشی خودکفالت کا آغاز

انٹرنیٹ شاید خاموشی سے دو حصوں میں تقسیم ہو رہا ہے۔ ایک وہ پرت جو انسانوں کے لیے ہے، جہاں ہم سوشل میڈیا اسکرول کرتے ہیں، خبریں پڑھتے ہیں اور آن لائن خریداری کرتے ہیں۔ دوسری وہ نئی پرت ہے جہاں اے آئی ایجنٹس خود مختار انداز میں لین دین کر رہے ہیں، فیصلے لے رہے ہیں اور حتیٰ کہ اپنی معاشی سرگرمیاں خود چلا رہے ہیں۔ “Nate’s Newsletter” کے مطابق یہی وہ تبدیلی ہے جو ڈیجیٹل دنیا کی ساخت بدل سکتی ہے۔

حالیہ مثال اس رجحان کو واضح کرتی ہے۔ “Coinbase” کے “Agentic Wallets” لانچ ہونے کے صرف چوبیس گھنٹوں کے اندر تقریباً تیرہ ہزار اے آئی ایجنٹس نے “Ethereum” والٹس رجسٹر کر لیے، وہ بھی “Base” نیٹ ورک پر۔ یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مشینیں اب صرف کوڈ نہیں لکھ رہیں بلکہ مالی شناخت بھی حاصل کر رہی ہیں۔

اسی طرح “Polymarket” پر الگورتھمک ٹریڈرز نے بارہ ماہ کے دوران تقریباً چالیس ملین ڈالر آربٹریج منافع کے طور پر نکالے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کچھ اے آئی ایجنٹس اس قدر خود مختار ہو چکے ہیں کہ وہ ٹریڈنگ سے حاصل شدہ منافع کو اپنی کمپیوٹ لاگت پوری کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ گویا وہ نہ صرف کماتے ہیں بلکہ اپنی بقا کا انتظام بھی خود کرتے ہیں۔

یہ منظرنامہ ایک نئے ڈیجیٹل معاشی نظام کی جھلک دیتا ہے جہاں اے آئی ایجنٹس نہ صرف صارف ہیں بلکہ فعال معاشی کھلاڑی بھی ہیں۔ اگر ویب کی ایک پرت انسانوں کے لیے ہے تو دوسری پرت شاید ان خودکار ایجنٹس کے لیے تیار ہو رہی ہے، جہاں رفتار، منطق اور کوڈ فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔

سوال اب یہ ہے کہ کیا آنے والے برسوں میں انسان اور اے آئی الگ الگ معاشی دنیاؤں میں کام کریں گے یا یہ دونوں پرتیں ایک دوسرے میں ضم ہو جائیں گی۔ جو بھی ہو، یہ واضح ہے کہ انٹرنیٹ صرف معلومات کا نیٹ ورک نہیں رہا بلکہ اب یہ خود مختار ڈیجیٹل اداروں کی معیشت میں بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔

#AIagents, #Web3, #Coinbase, #Ethereum, #BaseNetwork, #Polymarket, #AgenticEconomy

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں