حال ہی میں امریکہ میں منعقد ہونے والی ایک بڑی معاشی کانفرنس میں جو منظر سامنے آیا، وہ مستقبل کی ایک خوفناک جھلک تھا۔ وہاں بتایا گیا کہ بڑے لا فرمز اب نئے وکلا کو بھرتی کر کے تربیت دینے کے بجائے قانونی تحقیق، دستاویزات کی تیاری اور کیس اینالیسس جیسے کام براہِ راست مصنوعی ذہانت کے سپرد کر رہے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جونیئر وکلا کے لیے انڈسٹری میں داخل ہونے کا دروازہ ہی بند ہوتا جا رہا ہے۔
یہ بات کسی افواہ یا دور کی کہانی جیسی لگ سکتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی بحران ہمارے اردگرد بھی خاموشی سے سر اٹھا چکا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بڑے لا فرمز میں نئے وکلا کی بھرتی گزشتہ چند برسوں میں نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے۔ وجہ واضح ہے: وہ ابتدائی اور محنت طلب کام، جن کے ذریعے ایک نو آموز وکیل تجربہ حاصل کرتا تھا، اب جدید لیگل اے آئی سسٹمز چند سیکنڈ میں انجام دے دیتے ہیں۔ جب بنیاد ہی غائب ہو جائے تو اوپر چڑھنے کی سیڑھی کہاں سے آئے؟
اکاؤنٹنگ کی دنیا میں صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ بڑے اکاؤنٹنگ ادارے، جنہیں کبھی مستحکم اور محفوظ کیریئر کی علامت سمجھا جاتا تھا، اب اے آئی کی مدد سے ہر سال ہزاروں گھنٹوں کا کام خودکار بنا رہے ہیں۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ درجنوں اکاؤنٹنٹس کے برابر کام ایک سسٹم کر رہا ہے۔ اب اکاؤنٹنٹ کا کردار اعداد و شمار بنانے والا نہیں بلکہ اے آئی کے نکالے گئے ڈیٹا پر آخری فیصلہ دینے والا محدود طبقہ بن کر رہ گیا ہے، اور اس دائرے میں داخلہ ہر کسی کے لیے ممکن نہیں رہا۔
یہ بحران صرف روایتی “آرٹس” یا “دفتری” شعبوں تک محدود نہیں۔ وہ کمپیوٹر سائنس، جسے کبھی روزگار کی ضمانت سمجھا جاتا تھا، اب خود دباؤ میں ہے۔ کوڈنگ، سسٹم ڈیزائن اور سافٹ ویئر ٹیسٹنگ جیسے کاموں میں جنریٹو اے آئی انسان سے زیادہ تیز اور مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔ اسی لیے کمپنیاں نئے گریجویٹس کو بھرتی کرنے اور برسوں تک تربیت دینے کے بجائے ایک طاقتور اے آئی سسٹم کو ترجیح دے رہی ہیں۔ حتیٰ کہ Microsoft جیسے ادارے بھی بڑے پیمانے پر تنظیم نو کر چکے ہیں، جہاں انسانوں کے بجائے اے آئی کو مرکزی کردار دیا جا رہا ہے۔
طبی شعبہ، جسے ہمیشہ انسانی مہارت کا آخری قلعہ سمجھا جاتا تھا، وہ بھی اس تبدیلی سے محفوظ نہیں۔ دنیا بھر میں کئی پبلک اور پرائیویٹ ہیلتھ سسٹمز میں میڈیکل امیجنگ اور ایمرجنسی تشخیص کے اہم مراحل اب اے آئی انجام دے رہی ہے۔ اس سے مریضوں کا انتظار تو کم ہوا، مگر ڈاکٹر کے پیشے کی نایابی اور طاقت پہلے جیسی نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ مرکزی بینکوں اور عالمی اداروں نے ڈاکٹروں کو بھی ان پیشوں میں شامل کرنا شروع کر دیا ہے جو اے آئی سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ نوکریاں کم ہو رہی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ تجربہ حاصل کرنے کا راستہ ہی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ماضی میں ہر پیشے میں ایک قدرتی سفر ہوتا تھا: آسان کام، پھر مشکل ذمہ داریاں، اور آخرکار مہارت۔ اب وہ آسان کام اے آئی لے چکی ہے، اور نئے آنے والوں کے لیے سفر کا پہلا قدم ہی غائب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے نوجوانوں میں یہ تلخ مذاق عام ہو رہا ہے کہ “نوکری کے لیے اپلائی کا بٹن ہی غائب ہو چکا ہے۔”
اس رجحان کی تصدیق عالمی سطح پر بھی ہو رہی ہے۔ Goldman Sachs، Ford اور دیگر بڑی کمپنیاں واضح طور پر کہہ چکی ہیں کہ وہ انسانی افرادی قوت کے بجائے اے آئی پر زیادہ انحصار کریں گی۔ McKinsey & Company کے مطابق ٹیکنالوجی سیکٹر کی اکثریت پہلے ہی عملی سطح پر اے آئی کو کام میں لا چکی ہے۔
سب سے خوفناک پہلو مگر طبقاتی خلیج ہے۔ PwC کی ایک رپورٹ کے مطابق جو افراد اے آئی کو مؤثر طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں، وہ اسی عہدے پر موجود دوسروں کے مقابلے میں 50 فیصد سے زائد تنخواہ پا رہے ہیں۔ یعنی ایک ہی دفتر میں بیٹھے دو افراد، صرف اے آئی مہارت کی بنیاد پر بالکل مختلف دنیاؤں میں جی رہے ہیں۔ اے آئی برابری کی نہیں بلکہ نئی عدم مساوات کی بنیاد بنتی جا رہی ہے۔
اس تمام تاریکی کے باوجود تصویر کا ایک روشن پہلو بھی ہے۔ World Economic Forum کے مطابق اگرچہ کئی روایتی نوکریاں ختم ہوں گی، مگر مجموعی طور پر کروڑوں نئی نوکریاں بھی پیدا ہوں گی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ نوکریاں اُن لوگوں کے لیے ہوں گی جو اے آئی کو اپنا حریف نہیں بلکہ اپنا ہتھیار بنائیں گے۔
ماہرین اس نئے دور میں بقا کے لیے تین بنیادی اصولوں پر زور دیتے ہیں۔ پہلا، وہ کردار جہاں حتمی فیصلہ اور اس کی ذمہ داری انسان پر ہوتی ہے۔ دوسرا، وہ پیشے جہاں انسانی اعتماد، ہمدردی اور تعلق بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اور تیسرا، وہ فیلڈز جہاں جسمانی مہارت اور زمینی حقیقت سے نمٹنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ ان تینوں شعبوں میں انسان کی قدر اب بھی برقرار ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ مصنوعی ذہانت انسان کو براہِ راست ختم نہیں کر رہی، بلکہ انسانوں کے درمیان فرق کو بے رحمی سے واضح کر رہی ہے۔ جو اے آئی کو سمجھ لے گا، وہ آگے نکل جائے گا، اور جو اسے نظرانداز کرے گا، وہ پیچھے رہ جائے گا۔ مقابلہ اب انسان بمقابلہ مشین کا نہیں، بلکہ انسان بمقابلہ انسان ہے، اور ہتھیار کا نام اے آئی ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #ArtificialIntelligence, #FutureOfWork, #AIandJobs, #Automation, #TechEconomy, #DigitalTransformation