اوپن اے آئی کی یہ تحقیق بتاتی ہے کہ دنیا بھر میں لوگ چیٹ جی پی ٹی سے کن موضوعات پر سب سے زیادہ بات کرتے ہیں۔
یہ ڈیٹا تقریباً 11 لاکھ گفتگووں کے تجزیے پر مبنی ہے جو مئی 2024 سے جون 2025 تک جمع کیا گیا۔
نتائج حیران کن بھی ہیں اور ہمارے بدلتے ہوئے انسانی رویوں کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔
سب سے بڑا حصہ “تحریر” (Writing) کا ہے، جو تقریباً 28 فیصد باتوں پر مشتمل ہے۔
لوگ چیٹ جی پی ٹی سے اپنی تحریریں بہتر بنانے، ایڈیٹنگ کروانے، خلاصہ لکھوانے یا ذاتی انداز میں پیغام تیار کرنے کے لیے سب سے زیادہ رجوع کرتے ہیں۔
خاص طور پر “Edit or critique provided text” یعنی تحریر کی اصلاح اور تجزیہ — اس میں 10.6 فیصد حصہ ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ اب چیٹ بوٹ محض لکھنے والا نہیں بلکہ ایک تربیت دہندہ (Mentor) بن چکا ہے۔
اسی زمرے میں “Personal writing or communication” کا حصہ 8 فیصد ہے۔
یعنی لوگ ذاتی ای میلز، خطوط اور روزمرہ گفتگو کے لیے بھی چیٹ جی پی ٹی کی مدد لے رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تخلیقی تحریر جیسے کہانیاں لکھنا (Write fiction) ابھی بھی صرف 1.4 فیصد باتوں پر مشتمل ہے ، شاید تخلیق کے معاملے میں لوگ اب بھی انسان پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔
ایک اور بڑا زمرہ “عملی رہنمائی” (Practical Guidance) ہے جس کا حصہ 28 فیصد ہے۔
یہ وہ حصے ہیں جہاں لوگ سیکھنے، مشورہ لینے یا اپنی مہارت بہتر بنانے کے لیے چیٹ جی پی ٹی سے بات کرتے ہیں۔
مثلاً “Tutoring or teaching” کے تحت 10.2 فیصد باتیں آئیں ، اس کا مطلب ہے کہ چیٹ جی پی ٹی اب ایک مجازی استاد بن چکا ہے۔
اسی میں “How to advice” یعنی عملی مشورے 8.5 فیصد اور “Health, fitness, beauty or self-care” کے موضوعات 5.7 فیصد پر ہیں۔
یعنی چیٹ جی پی ٹی اب محض علم نہیں دیتا بلکہ زندگی کے مختلف پہلوؤں پر رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے۔
تیسرا بڑا زمرہ “معلومات کی تلاش” (Seeking Information) ہے، جس میں 21 فیصد حصہ ہے۔
یہ وہ سوالات ہیں جن میں لوگ کسی خاص موضوع پر درست اور فوری معلومات چاہتے ہیں۔
“ُاSpecific info” کے تحت 18 فیصد حصہ سامنے آیا ، یعنی لوگ اب سرچ انجنز کے بجائے سیدھا چیٹ جی پی ٹی سے سوال کرنا آسان سمجھتے ہیں۔
یہی وہ تبدیلی ہے جس نے آن لائن سرچ کے تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
ا“Purchasable products” یعنی خریداری سے متعلق سوالات 2 فیصد اور “Cooking and recipes” یعنی کھانے کی تراکیب صرف 0.9 فیصد ہیں۔
یعنی چیٹ جی پی ٹی کا اصل استعمال اب بھی علمی اور پیشہ ورانہ نوعیت کا ہے۔
“ٹیکنیکل مدد” (Technical Help) کے حصے میں 7.5 فیصد باتیں شامل ہیں۔
ان میں “Computer programming” 4.2 فیصد اور “Mathematical calculations” 3 فیصد ہیں۔
یہ ظاہر کرتا ہے کہ ڈویلپرز، طلبہ اور محققین چیٹ جی پی ٹی کو ایک سائنسی معاون کے طور پر استعمال کر رہے ہیں ،
یعنی جہاں پہلے “Google” یا “Stack Overflow” استعمال ہوتا تھا، اب وہاں چیٹ بوٹس اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔
“خود اظہار” (Self-Expression) کا حصہ 4.3 فیصد ہے۔
لوگ چیٹ جی پی ٹی سے ذاتی تعلقات، جذباتی خیالات یا روزمرہ احساسات پر بھی بات کرتے ہیں۔
یعنی چیٹ جی پی ٹی اب ایک ایسا ہمدم بن گیا ہے جس سے انسان کبھی کبھی صرف بات کرنے کے لیے بھی رجوع کرتا ہے۔
ہماری مقبول فہم کے برعکس“ملٹی میڈیا” (Multimedia) کا حصہ محض 6 فیصد ہے، جن میں “Create an image” 4.2 فیصد پر مشتعمل ہے۔یہ وہ حصے ہیں جن میں صارفین بصری مواد تخلیق یا تجزیہ کرنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتے ہیں۔اگرچہ یہ حصہ ابھی چھوٹا ہے، مگر تخلیقی لوگوں میں تیزی سے گرو کر رہا ہے۔
یہ نتائج بتاتے ہیں کہ انسان اب مصنوعی ذہانت سے صرف معلومات حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ سیکھنے، بہتر لکھنے اور ذاتی اظہار تک کے لیے بھی بات کرتا ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق سب سے زیادہ تیزی سے بڑھنے والے شعبے تعلیم، تحریر اور صحت سے متعلق ہیں۔
یہ واضح کرتا ہے کہ AI مستقبل میں علم، رہنمائی اور خود آگاہی کا ایک نیا وسیلہ بننے جا رہا ہے۔
جب ہر شخص کے پاس ایک ذہین استاد، مصنف اور رہنما موجود ہو تو یقیناًسیکھنے کا مفہوم ہی بدل جائے گا۔
“یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔”