جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

فیس بک استعمال کرنے والوں کے لیے اہم وارننگ : آپ کی فیس بک سرگرمیاں اب اے آئی کے لیے تربیتی مواد بن سکتی ہیں

2 جولائی 2026

فیس بک استعمال کرنے والوں کے لیے اہم وارننگ : آپ کی فیس بک سرگرمیاں اب اے آئی کے لیے تربیتی مواد بن سکتی ہیں

ذرا تصور کریں، آپ نے فیس بک کے کسی عوامی گروپ میں کسی ریسٹورنٹ کے خراب کھانے کی شکایت کی، یا کسی سفر، بیماری، تعلق یا روزمرہ تجربے کے بارے میں ایک پوسٹ لکھی۔ کچھ عرصے بعد کوئی دوسرا شخص اسی موضوع پر Meta AI سے سوال کرتا ہے، اور آپ کی پوسٹ اس کے جواب کی بنیاد بن جاتی ہے۔

یہ تصور اب محض خیالی نہیں رہا۔ میٹا نے امریکہ میں فیس بک کے لیے اپنے نئے AI Mode کی آزمائش شروع کر دی ہے، جسے مرحلہ وار مزید ممالک تک بھی وسعت دی جا سکتی ہے۔ اس نئے نظام کا مقصد فیس بک سرچ کو ایک مکمل اے آئی اسسٹنٹ میں تبدیل کرنا ہے، جو صرف ویب نتائج نہیں بلکہ فیس بک پر موجود عوامی مواد سے بھی معلومات حاصل کر کے جوابات فراہم کرے گا۔

میٹا کے مطابق یہ اے آئی عوامی طور پر دستیاب پوسٹس، عوامی گروپس، ریلز اور دیگر اوپن مواد کو استعمال کر سکتی ہے تاکہ صارفین کے سوالات کے زیادہ مفصل جواب تیار کیے جا سکیں۔ اگرچہ کمپنی نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ کن ذرائع سے کس حد تک معلومات لی جائیں گی، لیکن اس نے عوامی مواد کے استعمال کی تصدیق ضرور کی ہے۔

یہ تبدیلی کئی نئے سوالات بھی پیدا کرتی ہے۔

سب سے پہلی تشویش پرائیویسی کی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران لاکھوں افراد نے مختلف عوامی گروپس میں اپنی روزمرہ زندگی، خریداری، سفر، مقامی مسائل، مشورے، بیماریوں، پالتو جانوروں، تقریبات اور ذاتی تجربات کے بارے میں پوسٹس کی ہیں۔ پہلے یہ معلومات مختلف گروپس اور ہزاروں پوسٹس میں بکھری ہوئی تھیں، لیکن اگر اے آئی انہیں ایک ہی جگہ سمجھ کر خلاصہ بنانے لگے تو معلومات تک رسائی کہیں زیادہ آسان ہو سکتی ہے۔

دوسرا خدشہ سائبر جرائم سے متعلق ہے۔ اگر کوئی بدنیت شخص یہ جاننا چاہے کہ کسی شہر یا علاقے میں لوگ اس وقت کس چیز میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں، کن مسائل پر گفتگو ہو رہی ہے یا کس قسم کی خریداری عام ہے، تو اے آئی کی مدد سے ایسے رجحانات پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے سامنے آ سکتے ہیں۔ اس کے بعد فراڈ، جعلی اشتہارات یا فشنگ حملے زیادہ مؤثر انداز میں تیار کیے جا سکتے ہیں۔

ایک اور اہم مسئلہ غلط معلومات کا ہے۔

فیس بک پر ہر پوسٹ مستند تحقیق پر مبنی نہیں ہوتی۔ لاکھوں افراد اپنی ذاتی رائے، تجربات یا غیر مصدقہ معلومات بھی شیئر کرتے ہیں۔ اگر اے آئی کسی سائنسی تحقیق اور کسی عام صارف کی ذاتی رائے کو ایک ہی سطح پر دیکھنے لگے تو غلط یا گمراہ کن معلومات بھی جواب کا حصہ بن سکتی ہیں۔

یہ مسئلہ پہلے بھی مختلف اے آئی سسٹمز میں سامنے آ چکا ہے، جہاں انٹرنیٹ فورمز سے حاصل کی گئی معلومات کی بنیاد پر عجیب اور غلط مشورے صارفین کو دیے گئے تھے۔

اگر آپ اپنی معلومات کے استعمال کو محدود کرنا چاہتے ہیں تو چند احتیاطی اقدامات مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

اپنی پرانی عوامی پوسٹس کو Friends Only میں تبدیل کریں، آئندہ پوسٹس کی ڈیفالٹ پرائیویسی بھی Friends Only رکھیں، اور عوامی گروپس میں ایسی معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں جنہیں آپ نہیں چاہتے کہ مستقبل میں اے آئی سسٹمز پڑھیں یا ان سے سیکھیں۔

یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس وقت تک کوئی واضح ثبوت موجود نہیں کہ Meta AI لفظ بہ لفظ آپ کی کسی مخصوص پوسٹ کو دوسروں کے سامنے بطور جواب پیش کرتا ہے۔ تاہم کمپنی نے یہ ضرور واضح کیا ہے کہ عوامی مواد سے معلومات حاصل کر کے اے آئی جوابات تیار کیے جا سکتے ہیں، اسی لیے پرائیویسی کے حوالے سے احتیاط پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں