جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

فون پر بغیر انٹرنیٹ کے ، گوگل کی نئی اے آئی ٹیکنالوجی

20 جنوری 2026

فون پر بغیر انٹرنیٹ کے ، گوگل کی نئی اے آئی ٹیکنالوجی

گوگل نے خاموشی سے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جو آنے والے وقت میں موبائل اے آئی کی پوری دنیا بدل سکتا ہے۔ یہ کوئی معمولی اپڈیٹ نہیں بلکہ ایک بنیادی تبدیلی ہے جس کے ذریعے اب طاقتور مصنوعی ذہانت براہِ راست آپ کے موبائل فون پر چل سکتی ہے، وہ بھی بغیر انٹرنیٹ اور بغیر کسی کلاؤڈ سرور کے۔ اس وقت یہ فیچر پرائیویٹ پری ویو میں ہے اور صرف منتخب ڈویلپرز کو رسائی دی جا رہی ہے، لیکن جو بھی اس مرحلے میں شامل ہو گیا، وہ باقی سب سے کئی قدم آگے ہوگا۔

اس نئی پیش رفت کو Google نے Google AI Edge کے نام سے متعارف کرایا ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اب اے آئی ایپس کو کام کرنے کے لیے ہر وقت انٹرنیٹ یا مہنگے سرورز کی ضرورت نہیں رہے گی۔ جو ماڈلز پہلے کلاؤڈ پر چلتے تھے، اب وہی ماڈلز فون، ٹیبلٹ، ویب اور یہاں تک کہ چھوٹے مائیکرو کنٹرولرز پر بھی چل سکتے ہیں۔ رفتار زیادہ، پرائیویسی مکمل اور استعمال ہر جگہ ممکن۔

اب تک مسئلہ یہ تھا کہ اے آئی ایپس مختلف فونز پر مختلف طرح سے کام کرتی تھیں۔ کہیں رفتار سست، کہیں بیٹری تیزی سے ختم اور کہیں ایپ کریش۔ لیکن Google AI Edge نے اس مسئلے کو جڑ سے ختم کر دیا ہے۔ اب ڈویلپرز اپنے ماڈلز کو ریلیز سے پہلے ہی حقیقی فزیکل ڈیوائسز پر ٹیسٹ کر سکتے ہیں۔ یہ کوئی سیمولیشن نہیں بلکہ گوگل کی لیبز میں موجود اصلی فونز پر ہونے والا ٹیسٹنگ ڈیٹا ہوتا ہے، جس میں میموری، بیٹری اور پرفارمنس سب کچھ شامل ہے۔

اس پلیٹ فارم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ مختلف اے آئی فریم ورکس کے ساتھ کام کرتا ہے، جن میں TensorFlow، PyTorch اور JAX شامل ہیں۔ ایک ہی ماڈل کو اینڈرائیڈ، آئی او ایس، ویب اور ایمبیڈڈ ڈیوائسز پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو اسے واقعی گیم چینجر بناتی ہے۔

گوگل AI Edge صرف ایک ٹول نہیں بلکہ مکمل اسٹیک ہے۔ MediaPipe Tasks کے ذریعے ویژن، آڈیو، ٹیکسٹ اور جنریٹو اے آئی کے لیے لو کوڈ APIs دستیاب ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب اے آئی ایپ بنانے کے لیے مشین لرننگ میں پی ایچ ڈی ہونا ضروری نہیں۔ چند لائنز کا کوڈ لکھیں اور آبجیکٹ ڈیٹیکشن، امیج سیگمینٹیشن یا آن ڈیوائس LLM فوراً کام شروع کر دیتا ہے۔

اس کے ساتھ LiteRT رن ٹائم موجود ہے جو CPU، GPU اور مستقبل میں MPU پر ماڈلز کو انتہائی مؤثر طریقے سے چلاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ فون گرم نہیں ہوتا، بیٹری محفوظ رہتی ہے اور یوزر کو تیز رفتار تجربہ ملتا ہے۔ Model Explorer جیسا ٹول ڈویلپرز کو یہ دیکھنے کی سہولت دیتا ہے کہ ماڈل کے اندر کیا ہو رہا ہے، کہاں رکاوٹ ہے اور کوانٹائزیشن سے کیا فرق پڑ رہا ہے۔ یہ شفافیت عام طور پر کسی پلیٹ فارم میں نہیں ملتی۔

اس وقت سب سے بڑا رجحان چھوٹے لینگویج ماڈلز کا ہے جو فون پر ہی چل سکیں، اور اسی سلسلے میں گوگل نے Gemma کو آگے بڑھایا ہے۔ اب انہی ماڈلز میں ویژن اور آڈیو کی صلاحیت بھی شامل کی جا رہی ہے۔ تصور کریں ایک ایسی ایپ جو تصویر دیکھ کر سوال کا جواب دے، یا آواز سن کر فوراً سمجھ جائے، اور یہ سب کچھ لوکل ہو، بغیر ڈیٹا کہیں بھی بھیجے۔

پرائیویسی آج کے دور کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور آن ڈیوائس اے آئی اس کا بہترین حل ہے۔ تصاویر، آوازیں اور ڈیٹا فون سے باہر نہیں جاتے، جسے بزنسز ایک مضبوط مارکیٹنگ پوائنٹ کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آف لائن کام کرنے کی صلاحیت ان علاقوں میں بھی نئی مارکیٹس کھول دیتی ہے جہاں انٹرنیٹ کمزور یا مہنگا ہے۔

گوگل AI Edge Portal میں سو سے زائد اینڈرائیڈ ڈیوائسز پر ٹیسٹنگ کی سہولت موجود ہے۔ مختلف چپ سیٹس، مختلف ریم اور مختلف اینڈرائیڈ ورژنز پر پرفارمنس رپورٹس، ہیٹ میپس اور کمپیریزن چارٹس ملتے ہیں۔ یوں ڈویلپرز لانچ سے پہلے ہی جان لیتے ہیں کہ کون سا فون بہترین پرفارم کرے گا اور کہاں مسئلہ آ سکتا ہے۔

یہ سب کچھ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اے آئی کا مستقبل کلاؤڈ میں نہیں بلکہ صارف کی جیب میں ہے۔ جو ڈویلپرز اور بزنسز اس تبدیلی کو آج سمجھ لیں گے، وہ کل کی مارکیٹ کے لیڈر ہوں گے۔ Google AI Edge صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک نیا دور ہے، جہاں رفتار، پرائیویسی اور کنٹرول تینوں ایک ساتھ ممکن ہو گئے ہیں۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya,#GoogleAI,#OnDeviceAI,#EdgeAI,#ArtificialIntelligence,#AIUpdates,#FutureOfAI,#TechNews,#MobileAI

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں