جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

فائیو آئیز کا انتباہ، چین کا اوپن سورس اے آئی ماڈل عالمی سائبر سیکیورٹی کے لیے نیا چیلنج؟

26 جون 2026

فائیو آئیز کا انتباہ، چین کا اوپن سورس اے آئی ماڈل عالمی سائبر سیکیورٹی کے لیے نیا چیلنج؟

مصنوعی ذہانت کی دوڑ اب صرف نئی صلاحیتیں متعارف کرانے تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ تیزی سے قومی سلامتی اور سائبر جنگ کا معاملہ بنتی جا رہی ہے۔ پہلی بار دنیا کے طاقتور ترین انٹیلیجنس اتحاد فائیو آئیز نے ایک مخصوص اوپن سورس اے آئی ماڈل کے بارے میں کھل کر انتباہ جاری کیا ہے۔ انٹیلیجنس حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ اوپن سورس اے آئی تحقیق اور جدت کو تیز کرتا ہے، لیکن یہی آزادی جدید سائبر حملوں کو بھی زیادہ طاقتور بنا سکتی ہے۔

یہ انتباہ چین کی کمپنی Z.ai کے نئے اوپن ویٹس ماڈل GLM-5.2 کے بارے میں جاری کیا گیا ہے۔ تقریباً 744 ارب پیرامیٹرز پر مشتمل یہ ماڈل جدید کوڈنگ اور سافٹ ویئر انجینئرنگ کی صلاحیتوں کے باعث کئی نمایاں تجارتی اے آئی ماڈلز کا مقابلہ کرتا ہے۔ چونکہ اسے MIT لائسنس کے تحت جاری کیا گیا ہے، اس لیے دنیا بھر میں تقریباً کوئی بھی شخص اسے ڈاؤن لوڈ، ترمیم اور اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

فائیو آئیز اتحاد کے مطابق یہی کھلا پن سب سے بڑا خدشہ بن رہا ہے۔ انٹیلیجنس حکام کا کہنا ہے کہ ایسے طاقتور اوپن سورس ماڈلز کو ریاستی حمایت یافتہ ہیکرز، سائبر جرائم پیشہ گروہ اور دیگر خطرناک عناصر اپنے حملوں کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، کیونکہ ان پر وہ حفاظتی پابندیاں موجود نہیں ہوتیں جو اکثر کمرشل اے آئی سروسز میں شامل ہوتی ہیں۔

سائبر سیکیورٹی محققین کے مطابق روسی زبان کے بعض آن لائن فورمز پر پہلے ہی ایسی گفتگو سامنے آ چکی ہے جس میں GLM-5.2 کی حفاظتی حدود کو نظرانداز کرنے اور اس سے زیادہ طاقتور سائبر صلاحیتیں حاصل کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام حفاظتی اقدامات کامیابی سے توڑ دیے گئے ہیں، لیکن ماہرین اسے مستقبل کے ممکنہ خطرات کی ایک اہم علامت قرار دے رہے ہیں۔

ادھر Featherless.ai نے بھی 24 جون سے GLM-5.2 کی عالمی ہوسٹنگ شروع کر دی ہے، جس کے بعد یہ ماڈل مزید آسانی سے مختلف صارفین اور اداروں کی پہنچ میں آ گیا ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین کے درمیان یہ بحث دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا انتہائی طاقتور اوپن سورس اے آئی ماڈلز کے لیے نئی عالمی پالیسیوں اور حفاظتی اصولوں کی ضرورت ہے یا نہیں۔

یہ معاملہ ایک بڑے سوال کو بھی جنم دیتا ہے۔ کیا اوپن سورس اے آئی جدت، تحقیق اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے ضروری ہے، یا پھر یہی آزادی مستقبل میں سائبر حملوں اور قومی سلامتی کے خطرات کو کئی گنا بڑھا سکتی ہے؟ آنے والے برسوں میں یہی بحث مصنوعی ذہانت کی عالمی پالیسیوں کا رخ متعین کر سکتی ہے۔

حوالہ: Five Eyes سیکیورٹی انتباہ، TechStartups، IT Brief، Featherless.ai

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں