جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

غیر منافع بخش ادارے سے عالمی اے آئی ستون تک: اوپن اے آئی کی دس سالہ کہانی

15 دسمبر 2025

غیر منافع بخش ادارے سے عالمی اے آئی ستون تک: اوپن اے آئی کی دس سالہ کہانی

اوپن اے آئی نے اپنی دسویں سالگرہ پر صرف ایک سنگِ میل عبور نہیں کیا بلکہ مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر ایک جرات مندانہ اعلان بھی کر دیا۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین کے مطابق سپر انٹیلیجنس یعنی ایسی اے آئی جو انسانی ذہانت سے کہیں آگے ہو، اگلے دس برسوں میں تقریباً یقینی طور پر حقیقت بن جائے گی۔ یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب اوپن اے آئی ایک غیر یقینی نان پرافٹ ریسرچ لیب سے بدل کر ایک ایسی ٹیک طاقت بن چکی ہے جس کی مالیت پانچ سو ارب ڈالر کے قریب بتائی جا رہی ہے اور جس کی چیٹ جی پی ٹی سروس کو ہر ہفتے آٹھ سو ملین سے زیادہ صارفین استعمال کرتے ہیں۔

دسمبر دو ہزار پندرہ میں اوپن اے آئی کی بنیاد سیم آلٹمین اور ایلون مسک نے ایک ایسے مقصد کے ساتھ رکھی تھی جس کا مرکز انسانیت کی فلاح تھا۔ اس وقت وژن یہ تھا کہ مصنوعی ذہانت کو محفوظ، ذمہ دار اور سب کے فائدے کے لیے تیار کیا جائے۔ وقت کے ساتھ یہ مشن مزید پیچیدہ ہوتا گیا اور اکتوبر میں کمپنی نے ایک بڑی ری کیپیٹلائزیشن مکمل کی جس کے تحت نان پرافٹ کنٹرول برقرار رکھا گیا جبکہ فار پرافٹ بازو میں ایکویٹی اسٹرکچر متعارف ہوا۔ اس انتظام کے نتیجے میں مائیکروسافٹ سب سے بڑا سرمایہ کار بن کر سامنے آیا جس کے پاس اب تقریباً ستائیس فیصد حصص ہیں۔

اوپن اے آئی کی مالی رفتار بھی اتنی ہی تیز ہے جتنی اس کی ٹیکنالوجی کی ترقی۔ کمپنی کو توقع ہے کہ رواں سال کے اختتام تک اس کی سالانہ آمدن بیس ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ اسی تناظر میں چیٹ جی پی ٹی فائیو پوائنٹ ٹو کی لانچنگ کو ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے جس کے ساتھ ڈزنی کے ساتھ ایک ارب ڈالر مالیت کا تین سالہ کانٹینٹ معاہدہ بھی سامنے آیا ہے۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ اوپن اے آئی اب صرف ایک ریسرچ ادارہ نہیں بلکہ عالمی ڈیجیٹل معیشت کا ایک مرکزی کھلاڑی بن چکا ہے۔

تاہم یہ سفر مقابلے کے بغیر نہیں۔ ایلون مسک کی نئی اے آئی کمپنی ایکس اے آئی جس کی ویلیو دو سو تیس ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے اور گوگل و اینتھروپک جیسے ادارے اوپن اے آئی کے لیے سنجیدہ چیلنج بن چکے ہیں۔ اس کے باوجود سیم آلٹمین کا بیانیہ واضح ہے کہ اصل مقابلہ صرف مارکیٹ میں نہیں بلکہ مستقبل کی سمت متعین کرنے میں ہے۔ ان کے نزدیک اگلا عشرہ وہ دور ہو گا جہاں اے آئی محض ٹول نہیں رہے گی بلکہ انسانی معاشروں کی ساخت، معیشت اور فیصلوں کو نئی شکل دے گی۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر شیئرکی گئی ہے۔

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں