جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

صرف 30 منٹ روزانہ، اور آپ بن سکتے ہیں وائب کوڈر

12 نومبر 2025

صرف 30 منٹ روزانہ، اور آپ بن سکتے ہیں وائب کوڈر

میٹا کے چیف اے آئی آفیسر الیگزینڈر وانگ (Alexandr Wang) نے نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے اگلے چند سال “وائب کوڈنگ (Vibe-Coding)” سیکھنے اور اس پر مہارت حاصل کرنے کے لیے وقف کریں۔ ان کے بقول، یہ وہ وقت ہے جو آئندہ دہائیوں کے بل گیٹس اور مارک زکربرگ کو جنم دے گا۔

وانگ نے میٹا کنیکٹ 2025 کے دوران ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں کہا:

“اگر آپ 13 سال کے ہیں، تو آپ کو اپنا سارا وقت وائب کوڈنگ میں لگانا چاہیے۔ یہی وہ لمحہ ہے جو مستقبل کی معیشت کو بدل دے گا۔”

انہوں نے اس دور کا موازنہ 1980 کی دہائی کی کمپیوٹر ریولیوشن سے کیا، جب بل گیٹس، اسٹیو جابز اور مارک زکربرگ جیسے نوجوانوں نے کوڈنگ سیکھ کر ٹیکنالوجی کی دنیا کو بدل دیا۔ آج وہی موقع مصنوعی ذہانت کی شکل میں دوبارہ آ گیا ہے لیکن اس بار زبان ہی کوڈ بن گئی ہے۔

وائب کوڈنگ وہ نیا طریقۂ پروگرامنگ ہے جس میں آپ کمپیوٹر یا اے آئی اسسٹنٹ کو قدرتی زبان میں ہدایات دیتے ہیں , یعنی آپ “پروگرامنگ زبان” نہیں بلکہ عام بول چال میں بات کرتے ہیں، اور اے آئی اس گفتگو کو کوڈ میں تبدیل کر دیتا ہے۔

مثال کے طور پر: آپ لکھیںکہ

“میرے لیے ایک ویب سائٹ بناؤ جس میں نیلا بٹن ہو، اوپر لوگو، اور نیچے کانٹیکٹ فارم۔”

تو Cursor, Replit یا ChatGPT جیسے وائب کوڈنگ ٹول فوراً مکمل کوڈ تیار کر دیتے ہیں۔

یہی ہے وائب کوڈنگ: کوڈنگ جو زبان کے احساس، مزاج اور “vibe” سے سمجھتی ہے۔

وانگ کے مطابق، وائب کوڈنگ میں ماہر بننے کا راز “تجربہ” ہے، نہ کہ نصاب۔یہاں کوئی ایک کتاب یا کورس کافی نہیں بلکہ اصل بات ہے ہزاروں گھنٹے مشق۔انہوں نے کہا کہ:

“اگر آپ دس ہزار گھنٹے ان ٹولز سے کھیلتے رہیں اور باقیوں سے بہتر طریقے سے ان کا استعمال سیکھ جائیں، تو آپ کو زبردست فائدہ ہو گا۔”

وائب کوڈنگ کا تصور سب سے پہلے اوپن اے آئی کے شریک بانی آندرے کارپتھی نے 2025 کے آغاز میں دیا تھا۔ چند ہی ماہ میں یہ لفظ اتنا مقبول ہوا کہ Collins Dictionary نے اسے “Word of the Year” قرار دیا۔گوگل کے سی ای او سندر پچائی نے بھی اعتراف کیا کہ وہ خود Cursor اور Replit جیسے vibe-coding ٹولز استعمال کرتے ہیں۔

وانگ، جنہوں نے صرف 24 سال کی عمر میں Scale AI کے ذریعے دنیا کے کم عمر ترین ارب پتی کا درجہ حاصل کیا، اب میٹا کی سپر انٹیلیجنس لیبز کے سربراہ ہیں۔انہوں نے نوجوانوں سے کہا:

“یہ وقت گزرنے کے بعد واپس نہیں آئے گا۔ جو بچے آج اے آئی کے ساتھ کھیلیں گے، کل وہی اے آئی کو شکل دیں گے۔”

میٹا نے اسی دوران اپنی اے آئی ٹیم میں 600 ملازمین کی چھانٹی کا اعلان بھی کیا تاکہ فیصلے تیزی سے ہوں اور ہر فرد زیادہ “اثر رکھنے والا” کردار ادا کرے۔ کمپنی اب بھی 60 سے 65 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے اے آئی انفراسٹرکچر کو وسعت دے رہی ہے۔

آنے والا کل صرف کوڈنگ نہیں بلکہ تخلیقی صلاحیتوں کا نیا دروازہ ہے۔
وائب کوڈنگ کے ذریعے کوئی بھی شخص چاہے وہ طالب علم ہو، یوٹیوبر، یا فنکار ، اپنے خیالات کو فوری طور پر اے آئی کے ذریعے حقیقت میں بدل سکتا ہے۔

آج اگر کوئی 13 سالہ بچہ ہر روز صرف ایک گھنٹہ ان ٹولز سے کھیلتا ہے، تو ممکن ہے دس سال بعد وہ بھی اگلا “مارک زکربرگ” کہلائے۔

ذیل میں اے آئی کی دنیا کے ساتھیوں کے لیے ایک سادہ روڈمیپ دیا جا رہا ہے جسے فالو کرکے آپ بھی وائب کوڈر بن سکتے ہیں۔

روزانہ تھوڑا وقت نکالیں چاہے 30 منٹ ہی کیوں نہ ہوں، Cursor، Replit، یا ChatGPT جیسے ٹولز پر کام کریں۔

اپنے خیال سے شروعات کریں، کوئی چھوٹا سا پروجیکٹ بنائیں: کیلکولیٹر، ہوم پیج، یا کوئی گیم۔ اور کچھ بھی سمجھ نہ آرہا ہو تو چیٹ جی پی ٹی سے آئیڈیاز لے لیں۔

بول کر یا لکھ کر سکھائیں ، اپنے اے آئی اسسٹنٹ کو عام زبان میں بتائیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔

دیکھیں یہ کیسے سوچتا ہے ، اے آئی کے جواب کو سمجھیں، اسے بہتر پرامپٹس دیں، اور اپنی رائے کے مطابق fine-tune کریں۔

اپنی vibe بنائیں، جیسے کسی موسیقار کی اپنی “تھنکنگ اسٹائل” ہوتی ہے، ویسے ہی ایک vibe coder اپنی زبان، انداز اور ہدایت کا منفرد لہجہ تیار کرتا ہے۔

یہ دنیا کے اگلے “گیٹس لمحے” کی بازگشت ہے لیکن اس بار کمپیوٹر نہیں، مصنوعی ذہانت اس انقلاب کا مرکز ہے۔

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں