مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک غیر متوقع رجحان سامنے آیا ہے جہاں بڑی تعداد میں صارفین ChatGPT کو چھوڑ کر متبادل پلیٹ فارمز، خاص طور پر Claude کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق صرف چند ہفتوں میں Claude کے استعمال میں حیران کن حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا، جس نے اس تبدیلی کو ایک بڑے ٹیک ٹرننگ پوائنٹ میں بدل دیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق Claude کے استعمال میں 1,487 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ صارفین اب ہفتے میں اوسطاً 38 سیشنز Claude پر گزار رہے ہیں، جو ChatGPT کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔ یہاں تک کہ کارپوریٹ ماحول میں بھی Claude کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، جہاں یہ ChatGPT کے مقابلے میں دو گنا زیادہ استعمال ہو رہا ہے۔
اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ صارفین کے خدشات ہیں، خاص طور پر اخلاقی اور پالیسی سے متعلق مسائل، جنہوں نے لوگوں کو متبادل تلاش کرنے پر مجبور کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی صارفین نے یہ بھی محسوس کیا کہ Claude مخصوص کاموں میں بہتر کارکردگی دکھاتا ہے، جس نے اس رجحان کو مزید تقویت دی۔
تاہم اس پوری صورتحال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اب “ایک ہی اے آئی ٹول پر انحصار” کا تصور ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ آپ مختلف اے آئی ٹولز کو کب اور کیسے استعمال کرتے ہیں، نہ کہ صرف ایک پلیٹ فارم کے ماہر ہونے پر۔
ملازمتوں کی دنیا میں بھی اس کا اثر واضح نظر آ رہا ہے۔ اب کمپنیز ایسے افراد کو ترجیح دے رہی ہیں جو AI workflow optimization، vibe coding اور AI-native development جیسے مہارتوں کے حامل ہوں۔ یعنی صرف ایک ٹول جاننا کافی نہیں، بلکہ مختلف پلیٹ فارمز پر کام کرنے کی صلاحیت ضروری بنتی جا رہی ہے۔
اداروں کے لیے بھی یہ ایک اہم اشارہ ہے کہ وہ اپنے سسٹمز کو زیادہ لچکدار بنائیں۔ ایک ہی اے آئی ٹول پر انحصار خطرناک ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب کوئی سروس بند ہو جائے یا اس پر پابندی لگ جائے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مختلف ٹولز کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت پیدا کی جائے اور ایک مضبوط اے آئی اسٹریٹیجی تیار کی جائے۔
یہ تبدیلی واضح کرتی ہے کہ اے آئی کا مستقبل کسی ایک کمپنی یا پلیٹ فارم کے گرد نہیں گھومے گا، بلکہ ایک ایسے ایکو سسٹم کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں مختلف ٹولز، مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہوں گے۔ جو افراد اور ادارے اس تبدیلی کو سمجھ کر خود کو ڈھال لیں گے، وہی اس نئے دور میں آگے بڑھ سکیں گے۔
ماخذ: Forbes — Rachel Wells (March 2026)
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے