جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

سرمایہ کاروں کے لیے خطرے کی گھنٹی، اے آئی کا نیا دور

18 فروری 2026

سرمایہ کاروں کے لیے خطرے کی گھنٹی، اے آئی کا نیا دور

مصنوعی ذہانت نے صرف ٹیکنالوجی نہیں بدلی، اب یہ سرمایہ کاری کی دنیا کو بھی ہلا رہی ہے۔ عالمی ٹیکنالوجی فنڈ کے معروف منیجر نک ایونز نے خبردار کیا ہے کہ ایپلیکیشن سافٹ ویئر کمپنیوں کے لیے آنے والا دور وجودی خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت اس شعبے کی بنیادوں کو بدل رہی ہے اور چند ہی کمپنیاں اس طوفان سے بچ پائیں گی۔

نک ایونز، جو پولر کیپیٹل کے بارہ ارب ڈالر کے عالمی ٹیکنالوجی فنڈ کی قیادت کر رہے ہیں، نے حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا کہ انہوں نے تقریباً تمام ایپلیکیشن سافٹ ویئر شیئرز فروخت کر دیے ہیں۔ ان میں ایس اے پی، سروس ناؤ، ایڈوبی اور ہب اسپاٹ جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ قیمتیں اس غیر یقینی صورتحال کو ظاہر نہیں کر رہیں جو مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ سے پیدا ہو چکی ہے۔

ان کے مطابق اصل خطرہ اے آئی کوڈنگ ٹولز کی تیز رفتار ترقی ہے۔ جدید ماڈلز اب اس قابل ہو چکے ہیں کہ وہ کاروباروں کے لیے مخصوص سافٹ ویئر حل تیار کر سکیں، جس سے مہنگے لائسنسڈ پیکجز خریدنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ اگر کمپنیاں اپنی ضروریات کے مطابق سسٹمز خود تخلیق کرنے لگیں تو روایتی سافٹ ویئر کمپنیوں کا کاروباری ماڈل شدید دباؤ میں آ سکتا ہے۔

مارکیٹ میں اس تبدیلی کے آثار پہلے ہی نظر آ رہے ہیں۔ سافٹ ویئر سیکٹر سے متعلق بڑے فنڈز میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ کئی معروف کمپنیوں کے شیئرز میں سال کے آغاز سے دو عددی فیصد گراوٹ آ چکی ہے۔ ایونز سرمایہ کاروں کو خبردار کر رہے ہیں کہ کم قیمت دیکھ کر خریداری کرنا دانشمندی نہیں ہو سکتی، کیونکہ پورے شعبے کی طویل مدتی قدر غیر یقینی ہو چکی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنا سرمایہ سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کی طرف منتقل کر دیا ہے۔ ان کے پورٹ فولیو میں سب سے بڑا حصہ اب این ویڈیا کا ہے، جو مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب سافٹ ویئر کی ساخت بدل رہی ہو تو اصل فائدہ اس ہارڈویئر اور چپس بنانے والوں کو ہوگا جو اے آئی ماڈلز کو طاقت فراہم کرتے ہیں۔

البتہ وہ مکمل طور پر سافٹ ویئر سے باہر نہیں نکلے۔ بنیادی انٹرنیٹ اور ڈیٹا انفراسٹرکچر فراہم کرنے والی چند کمپنیوں میں محدود سرمایہ کاری برقرار رکھی گئی ہے، کیونکہ ان کے بقول یہ ادارے اے آئی کے دور میں بھی اہم رہیں گے۔

یہ پیش رفت ایک بڑے سوال کو جنم دیتی ہے۔ کیا مصنوعی ذہانت واقعی روایتی سافٹ ویئر کمپنیوں کے لیے وجودی خطرہ بن چکی ہے، یا یہ ایک عارضی مارکیٹ ردِعمل ہے؟ آنے والے سال اس کا واضح جواب دیں گے، مگر ایک بات طے ہے کہ سرمایہ کاری کی حکمت عملی اب تیزی سے بدل رہی ہے اور اے آئی اس تبدیلی کا مرکزی محرک ہے۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #ArtificialIntelligence, #StockMarket, #Nvidia, #TechStocks, #FutureOfAI

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں