GPT-5.4-Cyber
سائبر سیکیورٹی کے میدان میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر OpenAI نے GPT-5.4-Cyber کے نام سے اپنے نئے ماڈل کا اعلان کیا ہے، جو خاص طور پر دفاعی سیکیورٹی مقاصد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ ماڈل عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں ہوگا بلکہ صرف مخصوص ماہرین اور اداروں تک محدود رکھا گیا ہے۔
اس نئے ماڈل کو “cyber-permissive” انداز میں تیار کیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس میں روایتی پابندیوں کو کم کر کے سائبر سیکیورٹی کے پیشہ ور افراد کو زیادہ آزادی دی گئی ہے تاکہ وہ پیچیدہ مسائل کو بہتر طریقے سے حل کر سکیں۔ اس میں ایسی صلاحیتیں شامل ہیں جو سافٹ ویئر کے compiled کوڈ کا تجزیہ کر کے اس میں موجود ممکنہ خطرات، malware اور کمزوریوں کی نشاندہی کر سکتی ہیں، وہ بھی بغیر سورس کوڈ تک رسائی کے۔
اوپن اے آئی کے مطابق یہ ماڈل آنے والے مزید طاقتور سسٹمز کے لیے بنیاد فراہم کرے گا، جو اگلے چند مہینوں میں متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔ اسی لیے اس کا استعمال محدود رکھا گیا ہے اور صرف ان صارفین کو رسائی دی جا رہی ہے جو اپنی شناخت کی تصدیق کے ساتھ سائبر سیکیورٹی کے شعبے سے وابستہ ہوں۔
یہ ماڈل “Trusted Access for Cyber” پروگرام کے تحت فراہم کیا جا رہا ہے، جس میں انفرادی ماہرین اور ادارے مخصوص طریقہ کار کے ذریعے اس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس محدود رسائی کا مقصد یہ ہے کہ طاقتور صلاحیتوں کو صرف ذمہ دار ہاتھوں میں رکھا جائے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام اس بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے جہاں اے آئی کو نہ صرف عمومی استعمال بلکہ حساس شعبوں جیسے سائبر سیکیورٹی میں بھی خصوصی طور پر ڈھالا جا رہا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہو جاتا ہے کہ اتنی طاقتور ٹیکنالوجی کو کس حد تک کنٹرول میں رکھا جا سکتا ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #OpenAI, #CyberSecurity, #ArtificialIntelligence, #GPT54, #TechNews