مصنوعی ذہانت کی دنیا میں Anthropic نے ایک ساتھ کئی بڑے اعلانات کر کے توجہ حاصل کر لی ہے۔
کمپنی نے اپنے نئے ماڈل Claude Opus 4.8 کو متعارف کراتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ آنے والے چند ہفتوں میں اپنے انتہائی طاقتور Mythos کلاس اے آئی ماڈلز کو وسیع پیمانے پر صارفین کے لیے دستیاب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
یہ فیصلہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ Mythos اب تک صرف تقریباً 50 منتخب سائبر سیکیورٹی شراکت داروں تک محدود تھا اور اسے Project Glasswing کے تحت آزمایا جا رہا تھا۔
رپورٹس کے مطابق اس ماڈل نے مختلف آپریٹنگ سسٹمز اور ویب براؤزرز میں ہزاروں زیرو ڈے سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔
زیرو ڈے خامیاں وہ کمزوریاں ہوتی ہیں جن کے بارے میں سافٹ ویئر بنانے والی کمپنیوں کو بھی علم نہیں ہوتا، اسی لیے انہیں سائبر سیکیورٹی کی دنیا میں انتہائی قیمتی اور خطرناک سمجھا جاتا ہے۔
اگر Mythos واقعی اسی سطح کی صلاحیت رکھتا ہے تو اس کی وسیع دستیابی سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں ایک بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔
تاہم اس کے ساتھ ایک اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔
جو نظام ہزاروں خفیہ کمزوریاں تلاش کر سکتا ہے، اگر وہ غلط ہاتھوں میں پہنچ جائے تو کیا وہ دفاع کے ساتھ ساتھ حملوں کی صلاحیت بھی نہیں بڑھا سکتا؟
اسی دوران Anthropic نے اپنی مالی طاقت کا بھی مظاہرہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کمپنی نے 65 ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری حاصل کی ہے جس کے بعد اس کی تخمینی مالیت 900 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
یہ سطح اسے دنیا کی سب سے قیمتی اے آئی اسٹارٹ اپ کمپنیوں میں سرفہرست لے جاتی ہے اور بعض اندازوں کے مطابق اس کی قدر اب OpenAI سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔
چند سال پہلے Anthropic صرف ایک ابھرتا ہوا نام تھا۔
آج وہ نہ صرف جدید ترین اے آئی ماڈلز بنا رہی ہے بلکہ سائبر سیکیورٹی، کاروبار اور سرمایہ کاری تینوں میدانوں میں اپنی موجودگی مضبوط کر چکی ہے۔
مصنوعی ذہانت کی دوڑ اب صرف بہتر چیٹ بوٹس کی نہیں رہی۔
اب مقابلہ اس بات کا ہے کہ کون مستقبل کے سب سے طاقتور ڈیجیٹل نظاموں پر کنٹرول حاصل کرتا ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #Anthropic, #ClaudeOpus48, #Mythos, #ArtificialIntelligence, #CyberSecurity, #ZeroDay, #OpenAI, #TechNews