جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

ریسرچ سے ریئل ورلڈ تک: اے آئی بینچ مارکنگ کی تبدیلی

10 جنوری 2026

ریسرچ سے ریئل ورلڈ تک: اے آئی بینچ مارکنگ کی تبدیلی

اے آئی کی دنیا میں ماڈلز کو جانچنے کا طریقہ اب بنیادی طور پر بدل رہا ہے۔ طویل عرصے تک تعلیمی امتحانات، ریاضی کے سوالات اور محدود کوڈنگ ٹیسٹس یہ فیصلہ کرتے رہے کہ کون سا ماڈل زیادہ طاقتور ہے۔ مگر اب یہ پیمانے اپنی حد کو پہنچ چکے ہیں۔ اسی پس منظر میں Artificial Analysis نے جنوری 2026 میں اپنے Intelligence Index 4.0 کا اجرا کیا ہے، جو اے آئی انڈسٹری میں بینچ مارکنگ کے پورے فلسفے کو عملی دنیا کی طرف موڑ دیتا ہے۔

نئے انڈیکس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اے آئی ماڈلز کو اس بنیاد پر جانچا جائے کہ وہ حقیقی دنیا میں کتنا کام کر سکتے ہیں، نہ کہ صرف امتحانی سوالات میں کتنے نمبر حاصل کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس بار اسکورنگ کو جان بوجھ کر سخت بنایا گیا ہے۔ جہاں پہلے بہترین ماڈلز 70 سے اوپر اسکور کرتے تھے، اب وہی ماڈلز تقریباً 50 کے آس پاس نظر آ رہے ہیں، تاکہ مستقبل میں بہتری کے لیے گنجائش باقی رہے۔

اس نئے نظام میں سب سے اوپر GPT-5.2 کو رکھا گیا ہے، جس کے بعد Claude Opus 4.5 اور Gemini 3 Pro کا نمبر آتا ہے۔ مگر اس درجہ بندی کی اہمیت صرف ناموں میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ انہیں کن بنیادوں پر پرکھا گیا ہے۔

نئے انڈیکس میں سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ پرانے مشہور بینچ مارکس کو ہٹا دیا گیا ہے، جن میں تعلیمی نوعیت کے ریاضی اور کوڈنگ ٹیسٹس شامل تھے۔ ان کی جگہ ایسے امتحانات متعارف کرائے گئے ہیں جو براہِ راست معاشی قدر سے جڑے ہیں۔ مثال کے طور پر GDPval-AA نامی نیا پیمانہ اے آئی کو 44 مختلف پیشوں اور 9 بڑی صنعتوں کے کام سونپتا ہے، جن کا تعلق براہِ راست امریکی معیشت سے ہے۔ یہاں ماڈلز سے صرف جواب نہیں بلکہ مکمل آؤٹ پٹس مانگے جاتے ہیں، جیسے رپورٹس، اسپریڈ شیٹس اور پروفیشنل دستاویزات، وہ بھی ایسے کام جو عموماً 14 سال کے تجربے والے انسان انجام دیتے ہیں۔

سائنسی میدان میں صلاحیت جانچنے کے لیے CritPT نامی نیا بینچ مارک شامل کیا گیا ہے، جسے پچاس سے زائد فعال فزکس محققین نے تیار کیا۔ اس میں شائع نہ ہونے والے، ریسرچ لیول سوالات شامل ہیں، جو طبیعیات کی گیارہ ذیلی شاخوں پر مشتمل ہیں۔ حیران کن طور پر جدید ترین ماڈلز بھی یہاں صرف تقریباً 11 فیصد کامیابی حاصل کر پائے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ سائنسی استدلال میں اے آئی کو ابھی طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔

ایک اور نہایت اہم اضافہ AA-Omniscience ہے، جو اے آئی کے سب سے بڑے مسئلے یعنی ہیلوسینیشن کو ناپنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس میں 6 ہزار سوالات شامل ہیں، جو 42 مختلف موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔ یہاں ماڈلز کو غلط جواب دینے پر سزا دی جاتی ہے، جبکہ “مجھے معلوم نہیں” کہنے پر انعام دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صرف تین ماڈلز ہی مثبت اسکور حاصل کر سکے، جبکہ زیادہ تر سسٹمز غیر یقینی صورتحال میں غلط جواب دینے کے زیادہ قریب پائے گئے۔

یہ تبدیلی ایسے وقت میں آئی ہے جب بڑی اے آئی لیبارٹریز کے درمیان مقابلہ شدید ہو چکا ہے۔ نئے ماڈلز کی لانچنگ ایک دوسرے کے لیے دباؤ پیدا کر رہی ہے، اور کمپنیوں کو اب صرف ذہانت نہیں بلکہ قابلِ اعتماد اور عملی کارکردگی دکھانا پڑ رہی ہے۔ اسی لیے بینچ مارکنگ کا یہ نیا انداز کمپنیوں کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ ماڈلز کو حقیقی مسائل کے لیے بہتر بنائیں، نہ کہ صرف اسکور بہتر کرنے کے لیے۔

نیا انڈیکس چار برابر وزن رکھنے والے شعبوں پر مشتمل ہے، جن میں ایجنٹس، پروگرامنگ، سائنسی استدلال اور عمومی علم شامل ہیں۔ Artificial Analysis کے مطابق بار بار تجربات کے بعد اس اسکور میں غلطی کا امکان ایک فیصد سے بھی کم ہے، جو اسے ایک نسبتاً مستحکم اور قابلِ اعتماد پیمانہ بناتا ہے۔

مجموعی طور پر یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ اے آئی انڈسٹری اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ سوال اب یہ نہیں رہا کہ کون سا ماڈل امتحان میں بہتر نمبر لیتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون سا ماڈل حقیقی دنیا میں قابلِ اعتماد، مفید اور معاشی طور پر مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی تبدیلی آنے والے برسوں میں اے آئی کی سمت اور ترجیحات کا تعین کرے گی۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #ArtificialIntelligence, #AIBenchmarking, #AIModels, #FutureOfAI, #TechAnalysis

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں