جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

ذاتی اے آئی کا نیا دور شروع

15 اپریل 2026

ذاتی اے آئی کا نیا دور شروع

Gemini Personal Intelligence:

عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی صنعت میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر Alphabet Inc. نے اپنے اے آئی پلیٹ فارم Gemini میں “Personal Intelligence” فیچر متعارف کرانا شروع کر دیا ہے، جو ابتدائی طور پر امریکہ میں لانچ ہونے کے بعد اب دنیا کے بیشتر حصوں میں صارفین تک پہنچ رہا ہے، تاہم یورپ کے کچھ خطے فی الحال اس سے مستثنیٰ ہیں۔

اس نئے فیچر کے تحت Gemini صارف کی اجازت سے اس کے ذاتی ڈیٹا جیسے Gmail، Calendar، Drive، Photos اور دیگر سروسز تک رسائی حاصل کر کے ایک مکمل ذاتی نوعیت کا تجربہ فراہم کرتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ صارف کو ہر بار تفصیلات فراہم کرنے کی ضرورت نہ پڑے بلکہ سسٹم خود اس کی ترجیحات اور سابقہ سرگرمیوں کی بنیاد پر بہتر اور زیادہ متعلقہ جوابات دے سکے۔

عملی استعمال کے حوالے سے یہ فیچر کئی شعبوں میں نمایاں تبدیلی لا سکتا ہے۔ خریداری کے دوران صارف کو اس کی پسند اور سابقہ خریداریوں کے مطابق تجاویز دی جاتی ہیں، جبکہ تکنیکی مسائل کے حل کے لیے یہ سسٹم مخصوص ڈیوائس کے مطابق رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح سفر کے دوران وقت، مقام اور ذاتی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری تجاویز دینا بھی اس کی اہم خصوصیات میں شامل ہے۔

مزید برآں، یہ فیچر صارفین کو نئے مشاغل اور سرگرمیوں کی دریافت میں بھی مدد دیتا ہے، جو ان کی دلچسپیوں کے مطابق ہوتی ہیں۔ اس طرح Gemini محض ایک سوال و جواب کا ذریعہ نہیں رہتا بلکہ ایک مکمل ذاتی معاون کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ فیچر مکمل طور پر “opt-in” بنیاد پر کام کرتا ہے، یعنی صارف خود فیصلہ کرتا ہے کہ کون سی ایپس اور ڈیٹا تک رسائی دی جائے۔ اس کے علاوہ کسی بھی وقت اس رسائی کو محدود یا بند بھی کیا جا سکتا ہے، جس سے پرائیویسی کے خدشات کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ قدم اس وسیع رجحان کا حصہ ہے جہاں اے آئی سسٹمز تیزی سے زیادہ ذاتی اور سیاق و سباق کو سمجھنے والے بن رہے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ڈیٹا پرائیویسی اور کنٹرول کے سوالات بھی مزید اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے

#AiKiDuniya, #Google, #Gemini, #PersonalAI, #ArtificialIntelligence, #TechNews

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں