جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

دو دہائیوں بعد سرچ کی دنیا میں بڑی تبدیلی، چیٹ جی پی ٹی کا 17 فیصد حصہ

3 جنوری 2026

دو دہائیوں بعد سرچ کی دنیا میں بڑی تبدیلی، چیٹ جی پی ٹی کا 17 فیصد حصہ

دو دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد پہلی بار سرچ کی دنیا میں طاقت کا توازن واقعی ہلتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ جنوری 2026 کے آغاز تک OpenAI کے ChatGPT نے عالمی سرچ کوئریز کا تقریباً 17 سے 18 فیصد حصہ حاصل کر لیا ہے، جبکہ Google اب بھی 78 سے 80 فیصد کے ساتھ سب سے آگے ہے۔ مگر اصل تبدیلی فیصد سے زیادہ رویّے میں ہے۔ صارفین اب لنکس پر کلک کرنے کے بجائے براہِ راست خلاصہ شدہ، حوالہ شدہ جوابات چاہتے ہیں، اور یہی جگہ ChatGPT نے تیزی سے گھیر لی ہے۔

مقابلہ اس وقت مزید تیز ہوا جب گوگل نے نومبر 2025 میں Gemini 3 اور دسمبر میں Gemini 3 Flash متعارف کروایا۔ ایک سال میں Gemini کی جنریٹو ویب ٹریفک شیئر 5.4 فیصد سے بڑھ کر 18.2 فیصد ہو گئی، جبکہ اسی کیٹیگری میں ChatGPT کا حصہ 87.2 فیصد سے کم ہو کر 68 فیصد پر آ گیا۔ اس کے باوجود صارفین کے رویّے میں ایک اہم فرق برقرار ہے۔ ChatGPT پر اوسط سیشن 13 منٹ کا ہے، جبکہ گوگل پر یہ وقت تقریباً 6 منٹ رہتا ہے، جو گہرے انگیجمنٹ کی واضح علامت ہے۔

مارکیٹ کے تجزیہ کار اس تبدیلی کو “winner take most” کی سمت جاتا ہوا رجحان قرار دے رہے ہیں۔ ChatGPT کے ہفتہ وار ایکٹو یوزرز 800 سے 900 ملین کے درمیان بتائے جا رہے ہیں، جو Gemini کے اسکیل سے کہیں زیادہ ہیں، اگرچہ Gemini ڈیسک ٹاپ پر تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں رفتار اور ڈسٹری بیوشن دونوں فیصلہ کن بن رہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں پلیٹ فارمز نے نیت کے اعتبار سے الگ الگ میدان سنبھال لیے ہیں۔ گوگل اب بھی ٹرانزیکشنل اور نیویگیشنل سرچز میں غالب ہے، جیسے قریبی سروس تلاش کرنا یا مخصوص خریداری کرنا۔ اس کے برعکس ChatGPT نے معلوماتی اور تخلیقی سرچز پر قبضہ مضبوط کیا ہے۔ تحقیق کے مطابق اے آئی رزلٹس کو ٹرگر کرنے والی 88 فیصد سے زیادہ کوئریز معلوماتی نوعیت کی ہیں، جبکہ ٹرانزیکشنل سرچز محض 1.76 فیصد ہیں۔ یہی فرق اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ صارفین “جاننے” کے لیے کہاں جا رہے ہیں اور “خریدنے” کے لیے کہاں۔

اس تبدیلی کے اثرات پبلشرز کے لیے خاصے سخت ثابت ہو رہے ہیں۔ اے آئی سے تیار کردہ جوابات نے “زیرو کلک” حقیقت کو جنم دیا ہے، جہاں 65 فیصد سے زائد سرچز رزلٹس پیج پر ہی حل ہو جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں پبلشر ٹریفک میں 20 سے 60 فیصد تک کمی رپورٹ کر رہے ہیں، جس سے سالانہ تقریباً دو ارب ڈالر کی اشتہاری آمدن متاثر ہو رہی ہے۔ اسی دباؤ نے ایک نیا میدان کھول دیا ہے جسے Generative Engine Optimization کہا جا رہا ہے، جہاں اب مقابلہ گوگل رینکنگ کا نہیں بلکہ اے آئی جوابات میں حوالہ بننے کا ہے۔ بڑے میڈیا اداروں نے لائسنسنگ ڈیلز کے ذریعے خود کو کسی حد تک محفوظ کیا ہے، مگر چھوٹے تخلیق کاروں کے لیے چیلنج بڑھتا جا رہا ہے۔

یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ سرچ اب محض ایک پراڈکٹ نہیں رہی بلکہ ایک نیا انٹرفیس بن چکی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون سا انجن جیتے گا، بلکہ یہ ہے کہ صارفین معلومات کے ساتھ کس طرح بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ 2026 میں یہی فیصلہ سرچ کی اگلی دہائی کی سمت طے کرے گا۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya,#ChatGPT,#GoogleSearch,#Gemini,#AISearch,#FutureOfSearch,#TechTrends

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں