دنیا کی بڑی ٹیک کمپنیوں میں ایک SAPنے خاموشی سے ایک تجربہ کیا جس میں یہ دیکھا گیا کہ ماہر کنسلٹنٹس اے آئی کی کارکردگی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ نتائج کچھ چونکا دینے والے تھے۔
پانچ ٹیموں کو کہا گیا کہ ہزار سے زیادہ بزنس ریکوائرمنٹز کے وہ جواب چیک کریں جو اصل میں SAP کے نئے اے آئی کو پائلٹ Joule نے تیار کیے تھے۔ چار ٹیموں کو بتایا گیا کہ یہ کام نئے جونیئر انٹرنز نے کیا ہے۔ انہوں نے پورا مواد دیکھا، تعریف کی اور تقریباً پچانوے فیصد درست قرار دیا۔
لیکن پانچویں ٹیم کو بتایا گیا کہ یہ سب کچھ اے آئی نے تیار کیا ہے۔ وہی مواد۔ وہی جواب۔ بس اتنا سا فرق کہ “یہ اے آئی کا کام ہے”۔
نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے تقریباً سب مسترد کر دیا۔
جب انہیں مجبوراً ایک ایک جواب دوبارہ چیک کرنا پڑا تو انہیں پتہ چلا کہ اے آئی نے نہ صرف درست کام کیا تھا بلکہ وہ بہت سی ایسی باریکیاں بھی نکال رہی تھی جو پہلے نظرانداز ہو چکی تھیں۔ مجموعی درستگی پھر وہی ثابت ہوئی: تقریباً پچانوے فیصد۔
یہ تجربہ ایک واضح سبق دیتا ہے کہ اصل مزاحمت ٹیکنالوجی کی نہیں، انسانی رویوں کی ہوتی ہے۔ جو کنسلٹنٹس برسوں سے کام کر رہے ہیں ان کے پاس تجربہ ضرور ہے، مگر ساتھ ساتھ انسانی تعصب بھی۔ یہی وجہ ہے کہ Joule جیسے اے آئی کو پائلٹ ابھی انسانی مہارت کو بدلنے نہیں بلکہ اسے مضبوط بنانے کے لیے سامنے لائے جا رہے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ کنسلٹنٹس وہ وقت بچا سکیں جو پہلے ڈاکیومنٹس ڈھونڈنے اور تکنیکی باریکیوں میں صرف ہوتا تھا، تاکہ اب وہ اصل توجہ بزنس کی سمجھ، کلائنٹ کے اہداف اور بہتر فیصلہ سازی پر دے سکیں۔
جونیئر کنسلٹنٹس Joule کی مدد سے خود مختار ہو رہے ہیں، جبکہ سینئر کنسلٹنٹس اپنا تجربہ ان مشکل جگہوں پر استعمال کر رہے ہیں جہاں انسانی بصیرت ضروری ہوتی ہے۔ اس نے ٹیموں کے اندر ایک نیا رابطہ پیدا کیا ہے جہاں دونوں نسلیں اے آئی کے استعمال سے ایک دوسرے کو بہتر سمجھ رہی ہیں۔
آنے والا مرحلہ اس سے بھی بڑا ہے۔ جب یہ کو پائلٹس صرف پرامپٹس کا جواب دینے کے بجائے پورے بزنس پروسیس کو خود سمجھنے لگیں گے، وہاں انسانی مداخلت اور اے آئی دونوں کے کردار بدل جائیں گے۔ SAP کے پاس ہزاروں بزنس پروسیسز کا ڈیٹا موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ کمپنی کا اگلا قدم Agentic AI ہے، وہ سسٹمز جو پیچیدہ بزنس مسائل کو خودکار طریقے سے سمجھ کر حل تجویز کر سکیں۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر شیئر کی گئی ہے۔