خواب، یادیں، تخیل , یہ سب کچھ ہمیشہ سے انسانی شعور کی سلطنت میں محفوظ تھے۔ کوئی بھی دوسرا ان میں جھانک نہیں سکتا تھا۔ جو ہم سوچتے تھے، وہ صرف ہمارا ہوتا تھا۔ مگر شاید یہ رازداری اب افسانہ بننے جا رہی ہے۔
حال ہی میں جاپان کی اوساکا یونیورسٹی اور "کیوٹو یونیورسٹی" کے محققین نے ایک ایسا تجربہ کیا جس نے "سوچ" اور "مشین" کے درمیان آخری حد کو بھی مٹا دیا۔ یہ تحقیق اس قدر خاموشی سے ہوئی کہ ہمیں اس کے اثرات کا احساس تب ہوا جب پہلا خواب ویڈیو کی شکل میں سامنے آ گیا۔
یہ سسٹم جسے سادہ لفظوں میں "Mind-Video Reconstruction" کہا جاتا ہے، دراصل ایک ذہین نظام ہے جو انسانی دماغ کی برقی لہروں کو پکڑ کر، اس کے مطابق ویڈیوز تخلیق کرتا ہے۔ انسان جو منظر اپنے ذہن میں تصور کر رہا ہوتا ہے , مصنوعی ذہانت اس کا ایک مبہم سا ویژول ورژن تیار کر دیتی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ ویڈیوز نہ کسی کیمرے سے بنی ہوتی ہیں، نہ کسی آنکھ سے دیکھ کر , بلکہ یہ دماغ خود بطور کیمرہ استعمال ہوتا ہے۔
اس کے پیچھے ایک پیچیدہ عمل کارفرما ہے۔ سب سے پہلے دماغ کی fMRI اسکیننگ کے ذریعے اس وقت کی برقی سرگرمی کو ریکارڈ کیا جاتا ہے جب کوئی شخص کوئی تصویر دیکھتا ہے۔ اس ڈیٹا کو ایک ذہین نیورل نیٹ ورک میں ڈالا جاتا ہے، جو پھر ویژول ایریا سے حاصل شدہ سگنلز کو سمجھنے اور ان کی بنا پر ایک متحرک ویڈیو تیار کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ نتیجہ؟ ایک ایسی ویڈیو جو خواب جیسی لگتی ہے، مگر حقیقت سے بہت قریب۔
یہ بات سوچنے کی ہے کہ اب مشینیں صرف ہمارے کہے ہوئے الفاظ ہی نہیں سمجھتیں، بلکہ وہ اب ہمارے غیر کہے ہوئے خیالات تک رسائی حاصل کر رہی ہیں۔
یہ ایک انقلاب ہے، مگر کیسا؟
خاموش اور مہذب؟ یا خوفناک اور اندیشوں سے بھرپور؟
یہ ٹیکنالوجی امید بھی ہے اور خطرہ بھی۔ اگر ایک دن ایسا آ جائے جب بول نہیں سکنے والے افراد صرف سوچ کر بات کر سکیں، تو کیا یہ رحمت نہیں؟ وہ مریض جو مکمل طور پر لاچار ہیں، اپنی یادوں کو واپس لا سکیں، یا دنیا کو دکھا سکیں کہ وہ اندر سے کیسا محسوس کرتے ہیں , کیا یہ انسانی عزتِ نفس کی بحالی نہیں ہوگی؟
مگر دوسری طرف، اگر ایک ادارہ، ایک حکومت، یا ایک خودکار نظام آپ کے دماغ سے یہ جان سکے کہ آپ کیا سوچ رہے ہیں , تو کیا یہ آپ کی آخری پناہ گاہ پر بھی قبضہ نہیں ہوگا؟
کبھی خواب نجی ہوتے تھے۔
اب وہ قابلِ ریکارڈ بن گئے ہیں۔
اور جو ریکارڈ ہو سکتا ہے، وہ ترمیم، اشاعت، اور کنٹرول بھی ہو سکتا ہے۔
یہ یقینا" "انسان کی اندرونی خودی" پر حملہ ہے۔
وہ جو فقط دل کی دیواروں میں چھپا ہوتا تھا، اب کمپیوٹر کے پروسیسر میں تبدیل ہو رہا ہے۔
"یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔"