جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

دفاتر میں اے آئی سے کتنا وقت بچتا ہے؟

15 جنوری 2026

دفاتر میں اے آئی سے کتنا وقت بچتا ہے؟

مصنوعی ذہانت کو دفتر میں متعارف کرانے کا بنیادی وعدہ یہ تھا کہ یہ وقت بچائے گی، رفتار بڑھائے گی اور ملازمین کو زیادہ اہم کاموں پر توجہ دینے کا موقع دے گی۔ مگر اب سامنے آنے والی نئی تحقیق ایک مختلف اور قدرے پریشان کن تصویر پیش کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اے آئی جتنا وقت بچاتی ہے، اس کا ایک بڑا حصہ وہ خود ہی واپس لے لیتی ہے۔

حال ہی میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، ملازمین اے آئی کی مدد سے جو وقت بچاتے ہیں، اس کا تقریباً 40 فیصد دوبارہ اے آئی کی غلطیاں درست کرنے، مواد کو ری رائٹ کرنے اور نتائج کی تصدیق میں ضائع ہو جاتا ہے۔ یہ تحقیق Workday نے کی، جس میں شمالی امریکا، یورپ اور ایشیا کی 3,200 کمپنیوں کے ملازمین شامل تھے، وہ کمپنیاں جن کی سالانہ آمدن کم از کم 100 ملین ڈالر ہے۔

اعداد و شمار بظاہر حوصلہ افزا دکھائی دیتے ہیں۔ تقریباً 85 فیصد ملازمین کا کہنا ہے کہ اے آئی کے استعمال سے وہ ہفتے میں ایک سے سات گھنٹے تک وقت بچاتے ہیں۔ مگر جب نتائج کو گہرائی سے دیکھا گیا تو تصویر بدل جاتی ہے۔ صرف 14 فیصد ملازمین نے یہ محسوس کیا کہ اے آئی کے استعمال سے انہیں مستقل اور واضح مثبت نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔ باقی اکثریت کے لیے وقت کی بچت ایک نئی ذمہ داری میں بدل چکی ہے۔

اGerrit Kazmaier کے مطابق، یہ ایک واضح پیداواری تضاد ہے۔ جو ملازمین اے آئی کو سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں، وہی اس کے آؤٹ پٹ کو سب سے زیادہ وقت دے کر جانچتے، درست کرتے اور دوبارہ ترتیب دیتے ہیں۔ یعنی رفتار بڑھی ہے، مگر اعتماد نہیں۔

تحقیق میں اس اضافی محنت کو “ری ورک” کا نام دیا گیا ہے۔ اندازاً 37 فیصد وقت صرف اس کام میں لگ رہا ہے کہ اے آئی نے جو کچھ بنایا ہے، اسے درست کیا جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ روزانہ اے آئی استعمال کرنے والے 90 فیصد سے زیادہ ملازمین مستقبل کے حوالے سے پُرامید ہیں، مگر 77 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ اے آئی کے بنائے ہوئے کام کو اتنی ہی باریک بینی سے جانچتے ہیں، جتنی کسی انسان کے کام کو، بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ۔

یہ رجحان ایک اور اصطلاح کو جنم دے چکا ہے جسے “ورک سلاپ” کہا جا رہا ہے۔ اس سے مراد ایسا اے آئی جنریٹڈ مواد ہے جو بظاہر شاندار اور پروفیشنل لگتا ہے، مگر اندر سے کمزور اور سطحی ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق، صرف ایک بڑی تنظیم میں یہ مسئلہ سالانہ لاکھوں ڈالر کے نقصان کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ ملازمین کا قیمتی وقت ظاہری طور پر مکمل مگر عملی طور پر ناقص کام کو بہتر بنانے میں صرف ہو جاتا ہے۔

اس تمام صورتحال کی ایک بڑی وجہ ادارہ جاتی تیاری کی کمی ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ 89 فیصد تنظیموں میں آدھے سے بھی کم عہدوں کو اے آئی کی صلاحیتوں کے مطابق اپڈیٹ کیا گیا ہے۔ اگرچہ 66 فیصد لیڈرز اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اسکلز ٹریننگ اولین ترجیح ہونی چاہیے، مگر جن ملازمین پر ری ورک کا بوجھ سب سے زیادہ ہے، ان میں سے صرف 37 فیصد کو عملی تربیت ملی ہے۔

عمر کے لحاظ سے دیکھا جائے تو 25 سے 34 سال کے ملازمین اے آئی کے سب سے زیادہ استعمال کنندہ ہیں، مگر حیران کن طور پر ری ورک کے بوجھ کا 46 فیصد بھی انہی کے حصے میں آتا ہے۔ اس کے برعکس وہ ملازمین جنہوں نے واقعی اے آئی سے فائدہ اٹھایا، ان میں سے 57 فیصد نے بچایا ہوا وقت زیادہ اہم کاموں میں لگایا، اور 79 فیصد کو باقاعدہ اسکل ٹریننگ دی گئی۔

یہ نتائج ایک بڑے سبق کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اے آئی کو محض ایک ٹول کے طور پر شامل کرنا کافی نہیں۔ MIT اور Harvard Business School کی سابقہ تحقیقات بھی یہی بتاتی ہیں کہ ابتدائی مراحل میں اے آئی بعض اوقات پیداوار کم کر دیتی ہے، جب تک ادارے اپنے ورک فلو، ذمہ داریوں اور فیصلہ سازی کے طریقے ازسرِنو ترتیب نہیں دیتے۔

مجموعی طور پر پیغام واضح ہے۔ اے آئی رفتار تو دیتی ہے، مگر بغیر درست تربیت، واضح گورننس اور نئے طریقۂ کار کے یہ رفتار ایک اضافی بوجھ میں بدل سکتی ہے۔ مسئلہ اے آئی کی صلاحیت نہیں، بلکہ اس کا غیر منصوبہ بند استعمال ہے۔ جو ادارے اس خلا کو نہیں سمجھیں گے، وہ وقت بچانے کے بجائے وقت ضائع کرنے کی ایک نئی شکل ایجاد کر بیٹھیں گے۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #ArtificialIntelligence, #FutureOfWork, #WorkplaceAI, #Productivity, #AIReality

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں