انسانی خواب ہمیشہ سے ایک پراسرار موضوع رہے ہیں، مگر اب Natural Language Processing کی مدد سے سائنسدان ان رازوں کو سمجھنے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ اٹلی کے محققین کی ایک نئی تحقیق میں 3,700 سے زائد خوابوں کا تجزیہ کیا گیا، جس سے یہ بات سامنے آئی کہ خواب دراصل ہماری شخصیت اور روزمرہ زندگی کے تجربات کا عکس ہوتے ہیں۔
یہ تحقیق، جو 287 افراد پر کی گئی، اس نتیجے پر پہنچی کہ جو لوگ زیادہ سوچوں میں کھوئے رہتے ہیں، ان کے خواب بھی بکھرے ہوئے اور غیر مربوط ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس جو افراد اپنے خوابوں کو اہمیت دیتے ہیں، ان کے خواب زیادہ واضح اور بھرپور ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ COVID-19 لاک ڈاؤن جیسے حالات نے خوابوں کے جذبات کو مزید شدید بنا دیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بیرونی حالات براہِ راست ہماری نیند کی دنیا کو متاثر کرتے ہیں۔
تحقیق کا سب سے حیران کن پہلو یہ تھا کہ اے آئی ماڈلز نے خوابوں کے تجزیے میں انسانوں جتنی درستگی دکھائی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں بڑے پیمانے پر انسانی شعور اور ذہنی کیفیت کو سمجھنے کے لیے اے آئی ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
یہ پیش رفت اس سوال کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ کیا ہماری نیند اور خواب بھی اب ڈیٹا میں تبدیل ہو رہے ہیں؟ اور کیا مستقبل میں اے آئی نہ صرف ہمارے خیالات بلکہ ہمارے خوابوں کو بھی سمجھنے اور شاید متاثر کرنے کے قابل ہو جائے گی؟
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #AIResearch, #Dreams, #ArtificialIntelligence, #Psychology, #FutureTech