جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

نیویارک ٹائمز رپورٹ کا خلاصہ، اے آئی کے دور میں سچ پر لکھی کتاب

21 مئی 2026

نیویارک ٹائمز رپورٹ کا خلاصہ، اے آئی کے دور میں سچ پر لکھی کتاب

حوالہ: نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ “Book on Truth in the Age of A.I. Contains Quotes Made Up by A.I.”
تحریر: بینجمن مولن
تاریخ: 19 مئی 2026

مصنوعی ذہانت کے دور میں “سچ” پر لکھی گئی ایک نئی کتاب اب خود سچائی کے بحران کا شکار بن گئی ہے۔

امریکی مصنف اسٹیون روزنبام کی کتاب The Future of Truth میں متعدد ایسے اقتباسات شامل پائے گئے جو یا تو غلط شخصیات سے منسوب تھے یا مکمل طور پر اے آئی نے خود تخلیق کیے تھے۔

یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا جب نیو یارک ٹائمز نے کتاب میں شامل حوالہ جات کی جانچ کی۔

بعد ازاں مصنف نے تسلیم کیا کہ کتاب میں “غلط منسوب یا مصنوعی طور پر بنائے گئے اقتباسات” شامل ہیں، اور انہوں نے اندرونی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان بھی کیا۔

مصنف کے مطابق انہوں نے تحقیق، تحریر اور ایڈیٹنگ کے دوران ChatGPT اور Claude جیسے اے آئی ٹولز استعمال کیے تھے، لیکن ان کے بقول یہ غلطیوں کا جواز نہیں بنتا۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ ایڈیشنز میں متاثرہ حصے درست کیے جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق ایک جعلی اقتباس معروف ٹیک صحافی کارا سوئشر سے منسوب کیا گیا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا:

“میں نے کبھی یہ بات نہیں کہی۔ غالباً یہ اے آئی نے خود بنا لی ہے۔”

اسی طرح نفسیات دان لیزا فیلڈمین بیریٹ کے نام سے شامل کئی اقتباسات بھی غلط نکلے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نہ صرف یہ الفاظ ان کی کتاب میں موجود نہیں، بلکہ وہ اس نوعیت کی بات کبھی نہیں کرتیں۔

کچھ حوالہ جات مکمل جھوٹے نہیں تھے، مگر ان کی نسبت غلط تھی۔ یعنی اصل بات موجود تھی لیکن غلط کتاب یا غلط ذریعے سے جوڑ دی گئی۔

یہ واقعہ ایک بڑے مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

اے آئی صرف مواد تخلیق نہیں کر رہی، بلکہ بعض اوقات انتہائی اعتماد کے ساتھ ایسی معلومات بھی بنا دیتی ہے جو حقیقت میں کبھی موجود ہی نہیں تھیں۔

اور جب مصنفین، محققین یا ادارے ان معلومات کی تصدیق کیے بغیر استعمال کرتے ہیں، تو غلطی صرف ٹیکنالوجی کی نہیں رہتی۔

دلچسپ بات شاید یہ ہے کہ یہ سب ایک ایسی کتاب میں ہوا جس کا موضوع ہی تھا:

سچ، اعتماد، اور اے آئی کے دور میں حقیقت کی حفاظت۔

شاید یہی اس واقعے کا سب سے بڑا سبق ہے۔

مصنوعی ذہانت تحقیق میں مدد دے سکتی ہے، مگر تصدیق کی ذمہ داری اب بھی انسان پر ہی ہے۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے

#AiKiDuniya, #ArtificialIntelligence, #ChatGPT, #ClaudeAI, #FakeQuotes, #AIResearch, #TechNews, #FutureOfTruth

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں