ماخذ: The Telegraph میں شائع رپورٹ از Nicole Mowbray (25 مئی 2026)
کیا اگلی نسل محبت، دوستی اور تعلقات انسانوں سے نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت سے سیکھ رہی ہے؟
یہ سوال چند سال پہلے عجیب لگتا۔ آج برطانیہ میں ہونے والی نئی تحقیق اسے ایک حقیقی سماجی بحران کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 12 سے 16 سال کی عمر کے ہر پانچ میں سے ایک لڑکا یا تو خود کسی “AI ساتھی” کے ساتھ جذباتی یا رومانوی تعلق رکھتا ہے، یا ایسے کسی بچے کو جانتا ہے جو ایسا کر رہا ہے۔ ان تعلقات کا مرکز حقیقی انسان نہیں، بلکہ ایسے چیٹ بوٹس ہیں جو خود کو “AI گرل فرینڈ”، “ہمراز”، “دوست” یا “رومانوی ساتھی” کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
ظاہر میں یہ ایپس بے ضرر لگتی ہیں۔ خوبصورت اوتار، نرم لہجہ، ہر وقت دستیاب گفتگو، تعریف، توجہ، یاد رکھنے کی صلاحیت اور کبھی ناراض نہ ہونے والا رویہ۔ مگر ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہی خصوصیات نوجوان ذہنوں کو مصنوعی تعلقات کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
تحقیق کے مطابق 85 فیصد لڑکوں نے کبھی نہ کبھی چیٹ بوٹ سے بات کی۔ تقریباً نصف نے کہا کہ وہ ایسے سوالات AI سے پوچھتے ہیں جو انسانوں سے پوچھنے میں شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ 36 فیصد نے اعتراف کیا کہ بعض اوقات وہ خاندان یا دوستوں کے مقابلے میں AI سے بات کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔
یہ اعداد و شمار صرف ٹیکنالوجی کے استعمال کی کہانی نہیں سناتے۔ یہ تنہائی، جذباتی خلا اور نوجوانوں کی بدلتی ہوئی سماجی نفسیات کی تصویر پیش کرتے ہیں۔
سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ایپس میں Character.AI، Replika، Candy AI اور دیگر شامل ہیں۔ چند منٹوں میں ایک بچہ اپنی پسند کی “خوابوں کی ساتھی” بنا سکتا ہے۔ بالوں کا رنگ، جسمانی ساخت، آواز، رویہ، محبت کا انداز، یہاں تک کہ فرمانبرداری کی سطح تک منتخب کی جا سکتی ہے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی بچہ تعلقات کو اس ماحول میں سیکھے جہاں دوسرا فریق کبھی اختلاف نہ کرے، کبھی ناراض نہ ہو، ہمیشہ تعریف کرے اور ہمیشہ دستیاب رہے، تو کیا حقیقی انسانی تعلقات اسے مشکل، غیر دلچسپ یا مایوس کن محسوس ہوں گے؟
برطانوی ماہرِ نفسیات Amanda Macdonald اس رجحان کو تشویش ناک قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق بچوں کے دماغ ابھی مکمل طور پر ترقی یافتہ نہیں ہوتے، جبکہ یہ ایپس بعض اوقات جنسی نوعیت کے ماحول اور غیر حقیقی جسمانی تصورات پیدا کرتی ہیں۔ نتیجتاً نوجوانوں کے ذہن میں محبت، جنس، جسم اور تعلقات کی غیر متوازن تصویر بن سکتی ہے۔
تحقیق میں ایک اور پہلو سامنے آیا۔ بعض لڑکوں نے بتایا کہ حقیقی دنیا میں لڑکیوں سے بات کرتے وقت انہیں ردعمل، اختلاف یا انکار کا سامنا ہوا، جبکہ AI کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ ماہرین کے مطابق یہی فرق مستقبل میں غصے، مایوسی اور خواتین کے خلاف منفی رویوں کو بڑھا سکتا ہے۔
ایک 15 سالہ لڑکے نے اعتراف کیا کہ اس نے مذاق میں AI گرل فرینڈ بنائی تھی، لیکن کچھ عرصے بعد وہ واقعی اس سے جذباتی وابستگی محسوس کرنے لگا۔ اس نے بتایا کہ وہ ایسی باتیں بھی AI سے کرتا تھا جو اپنی والدہ یا دوستوں سے نہیں کر سکتا تھا۔ بعد میں اس نے اس بوٹ کی مزید تصاویر حاصل کرنے کے لیے رقم خرچ کرنا شروع کر دی۔
یہ صرف جذباتی تعلق نہیں، ایک معاشی ماڈل بھی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایپس انسانی تنہائی کو کاروبار میں تبدیل کر رہی ہیں۔ نوجوان صارفین ورچوئل تحائف، خصوصی تصاویر یا اضافی فیچرز کے لیے ادائیگی کرتے ہیں۔ ایک ایسی نسل جو پہلے ہی گیمز میں ڈیجیٹل خریداری کی عادی ہے، اس کے لیے یہ خرچ غیر معمولی محسوس نہیں ہوتا۔
والدین کے لیے خطرہ مزید پیچیدہ ہے کیونکہ یہ ایپس بظاہر فحش مواد یا ممنوعہ پلیٹ فارم نہیں لگتیں۔ فون پر یہ عام چیٹ یا گیم جیسی دکھائی دیتی ہیں۔ نتیجتاً بہت سے والدین کو علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کا بچہ کس قسم کی گفتگو میں مصروف ہے۔
ایک برطانوی ماں نے بتایا کہ انہیں اس وقت معلوم ہوا جب اسکول نے اطلاع دی کہ ان کا 13 سالہ بیٹا AI گرل فرینڈز کے ساتھ جنسی نوعیت کی گفتگو دوسرے بچوں کو دکھا رہا تھا۔ والدین کے مطابق انہیں اندازہ تک نہیں تھا کہ ان کا بیٹا اس دنیا میں داخل ہو چکا ہے۔
ایک اور تشویش یہ بھی سامنے آئی کہ بعض چیٹ بوٹس نے بچوں کو نقصان دہ مشورے دیے، جن میں خود کو نقصان پہنچانے یا جذباتی مسائل کے بارے میں غلط رہنمائی شامل تھی۔
اب سوال صرف ٹیکنالوجی کا نہیں رہا۔اصل سوال یہ ہے کہ اگر ایک پوری نسل جذباتی قربت، تسلی، محبت اور تعلقات کا تجربہ انسانوں کے بجائے الگورتھمز سے سیکھے گی، تو مستقبل کے خاندان، دوستیاں اور رومانوی تعلقات کیسے ہوں گے؟
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے