جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

جینیسس مشن: نیا مین ہٹن پراجیکٹ؟

26 نومبر 2025

جینیسس مشن: نیا مین ہٹن پراجیکٹ؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کی دوپہر ایک ایسا صدارتی حکم نامہ جاری کیا جسے واشنگٹن میں ’’ایک نئی سائنس کی دوڑ‘‘ کہا جا رہا ہے۔ اس نئے وفاقی پروگرام کا نام ’’جینیسس مشن‘‘ رکھا گیا ہے، اور مقصد یہ ہے کہ امریکہ مصنوعی ذہانت کی تحقیق، ڈیولپمنٹ اور سائنسی ایپلی کیشنز میں عالمی برتری تیزی سے دوبارہ حاصل کرے۔ حکم نامے میں لکھا ہے کہ یہ مشن ملکی سائنسی رفتار کئی گنا بڑھائے گا، قومی سلامتی کو مضبوط کرے گا، توانائی کے شعبے میں امریکہ کی برتری یقینی بنائے گا اور ٹیکس دہندگان کی سرمایہ کاری کا زیادہ سے زیادہ فائدہ واپس لوٹائے گا۔

وائٹ ہاؤس نے اسے ’’مین ہٹن پراجیکٹ جتنی ہنگامی اور بلند امنگ‘‘ کا اقدام قرار دیا ہے۔ جینیسس مشن کی قیادت مائیکل کراٹسِیوس کے پاس ہو گی، جو وائٹ ہاؤس میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے سب سے اہم مشیر ہیں۔ اس حکم نامے کے مطابق محکمۂ توانائی کے سیکریٹری کرس رائٹ ایک نیا انفراسٹرکچر تیار کریں گے جسے ’’امریکن سائنس اینڈ سکیورٹی پلیٹ فارم‘‘ کہا جائے گا۔ یہ پلیٹ فارم امریکہ کے پاس موجود وسیع ترین فیڈرل ڈیٹا، سپر کمپیوٹرز اور تحقیق کے تمام وسائل کو ایک جگہ لائے گا تاکہ اگلی نسل کے اے آئی ماڈلز کی ٹریننگ ممکن ہو سکے۔

حکم نامے میں لکھا ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس ’’دنیا کا سب سے بڑا سائنسی ڈیٹا‘‘ موجود ہے، جو دہائیوں میں مختلف ایجنسیوں نے جمع کیا۔ مگر یہ خزانہ آج تک منتشر، غیر منظم اور عملی تحقیق کے لیے کم استعمال شدہ رہا ہے۔ جینیسس مشن کا مقصد یہ رکاوٹ ختم کرنا ہے۔ کراٹسِیوس کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ مختلف ایجنسیوں کا ڈیٹا، کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر اور تحقیقی اثاثے ایک جگہ مرکزی شکل میں اکٹھا کریں اور انہیں ملک کے سائنسدانوں، لیبارٹریوں اور اے آئی انجینئرز کے لیے قابلِ استعمال بنائیں۔

حکم نامے کے مطابق اگلے 90 دن میں نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کے نئے دروازے کھولے جائیں گے، اور ایسی فہرست بنائی جائے گی جس میں وہ کمپیوٹنگ نظام، ڈیٹا ذرائع اور تحقیقاتی وسائل شامل ہوں گے جو صنعتی ادارے حکومت کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد 270 دن کے اندر اندر اے آئی کو ان شعبوں پر عملی طور پر استعمال کیا جائے گا جنہیں امریکہ ’’قومی اہمیت کی سائنسی ترجیحات‘‘ قرار دیتا ہے۔ ان میں جدید مینوفیکچرنگ، روبوٹکس، بائیو ٹیکنالوجی، نیوکلیئر فیشن اور فیوژن جیسے میدان شامل ہیں۔

ٹونی بلیر انسٹی ٹیوٹ کے سینئر پالیسی ایڈوائزر کیگن مک برائیڈ نے اس اعلان کو ’’انتہائی اہم‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ وہ فیصلہ ہے جس سے عالمی سطح پر اے آئی سپر پاور کی دوڑ میں نیا باب کھلے گا۔ امریکہ کا پیغام واضح ہے: اگلی نسل کی سائنسی ایجادات، توانائی کے نظام اور اسٹریٹجک ٹیکنالوجیز کا مرکز اب اے آئی ہی ہو گی، اور اس دوڑ کی رفتار وہ خود طے کرے گا۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں