ٹیکنالوجی کی عالمی دوڑ میں Alphabet Inc. کے ڈیپ مائنڈ نے Gemma 4 کے نام سے نئے اوپن ویٹ اے آئی ماڈلز متعارف کرائے ہیں، جو Gemini 3 کی تحقیق اور ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں۔ یہ قدم اوپن سورس اے آئی کے میدان میں تیزی سے بڑھتے ہوئے مقابلے، خاص طور پر چین کے ماڈلز کے مقابل، ایک اہم حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس نئی فیملی میں چار مختلف سائزز شامل ہیں جن میں چھوٹے اور بڑے دونوں طرح کے ماڈلز موجود ہیں۔ ان سب کو Apache 2.0 لائسنس کے تحت جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت ڈیولپرز کو مکمل آزادی حاصل ہے کہ وہ انہیں اپنی ضروریات کے مطابق استعمال اور تبدیل کر سکیں۔ خاص طور پر بڑا ماڈل اپنی کارکردگی کے باعث نمایاں ہے جو کم وسائل کے باوجود اعلیٰ نتائج دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان ماڈلز کی نمایاں خوبی ان کی لچک اور کارکردگی ہے۔ بڑے ماڈلز ایک ہی NVIDIA Corporation H100 جی پی یو پر چل سکتے ہیں جبکہ چھوٹے ماڈلز موبائل فونز، انٹرنیٹ آف تھنگز ڈیوائسز اور کم طاقت والے سسٹمز پر بھی مؤثر طریقے سے کام کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب طاقتور اے آئی صرف بڑے سرورز تک محدود نہیں بلکہ عام صارفین کی ڈیوائسز تک بھی پہنچ رہی ہے۔
یہ ماڈلز ملٹی موڈل صلاحیت رکھتے ہیں یعنی یہ ویڈیو، تصویر، آواز اور متن کو ایک ساتھ سمجھ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ خودکار ورک فلو، کوڈ تخلیق اور مختلف فنکشنز کو انجام دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ انہیں ایک سو چالیس سے زائد زبانوں پر تربیت دی گئی ہے اور ان کا کانٹیکسٹ بھی پہلے سے زیادہ وسیع ہے، جس سے یہ پیچیدہ کام بہتر انداز میں انجام دیتے ہیں۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس سیریز کے پہلے ماڈلز کو چار سو ملین سے زیادہ بار ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے اور کمیونٹی نے ایک لاکھ سے زائد مختلف ورژنز تیار کیے ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اوپن اے آئی ماڈلز اب صرف تحقیق تک محدود نہیں بلکہ عملی دنیا میں بھی تیزی سے استعمال ہو رہے ہیں، جیسے صحت، تعلیم اور مقامی زبانوں کے حل میں۔
یہ ماڈلز مختلف پلیٹ فارمز پر دستیاب ہیں تاکہ ہر سطح کے ڈیولپرز انہیں آسانی سے استعمال کر سکیں۔ اس پیش رفت سے واضح ہوتا ہے کہ آنے والا وقت ایسے اے آئی سسٹمز کا ہوگا جو طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ ہر فرد کے لیے قابل رسائی بھی ہوں گے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #Google, #Gemma4, #ArtificialIntelligence, #OpenSourceAI, #FutureTech