جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

جیب میں سما جانے والا ذاتی اے آئی کمپیوٹر

10 جنوری 2026

جیب میں سما جانے والا ذاتی اے آئی کمپیوٹر

ٹینی اے آئی نے سی ای ایس 2026 میں Pocket Lab متعارف کروایا، جو ایک جیب میں سما جانے والا ذاتی اے آئی کمپیوٹر ہے۔ یہ ڈیوائس مکمل طور پر آف لائن کام کرتی ہے اور اس میں کسی قسم کی سبسکرپشن یا انٹرنیٹ کنیکشن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ چھوٹا سا سسٹم 120 ارب پیرامیٹرز تک کے بڑے لینگویج ماڈلز کو مقامی طور پر چلا سکتا ہے، جو اب تک صرف طاقتور سرورز یا ڈیٹا سینٹرز تک محدود سمجھے جاتے تھے۔

ٹینی اے آئی پاکٹ لیب کو دسمبر 2025 میں گنیز ورلڈ ریکارڈز کی جانب سے دنیا کا سب سے چھوٹا منی پی سی قرار دیا گیا، جو 100 ارب پیرامیٹرز پر مشتمل اے آئی ماڈلز لوکل سطح پر چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ڈیوائس میں 80 جی بی میموری اور 1 ٹی بی اسٹوریج دی گئی ہے، جبکہ اس کا سائز اور ڈیزائن اسے عام ڈیسک ٹاپ یا سرور کے مقابلے میں کہیں زیادہ قابلِ رسائی بناتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈیٹا پرائیویسی، کلاؤڈ پر انحصار اور بار بار ادا کی جانے والی سبسکرپشن فیسز پر سوالات بڑھتے جا رہے ہیں۔ پاکٹ لیب کا بنیادی فلسفہ یہی ہے کہ صارف کا ڈیٹا مکمل طور پر اس کے اپنے کنٹرول میں رہے، بغیر کسی بیرونی سرور پر بھیجے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پروڈکٹ خاص طور پر اُن صارفین، ڈویلپرز اور کاروباری افراد کے لیے پرکشش ہے جو کلاؤڈ بیسڈ اے آئی سروسز کا متبادل تلاش کر رہے ہیں۔

ٹینی اے آئی کے مطابق پاکٹ لیب کو فروری میں کِک اسٹارٹر پر لانچ کیا جائے گا، جہاں اس کی سپر ارلی برڈ قیمت 1,399 امریکی ڈالر رکھی گئی ہے۔ کمپنی کا ہدف اُن صارفین کو متوجہ کرنا ہے جو ایک طاقتور مگر ذاتی، محفوظ اور لاگت کے اعتبار سے طویل مدت میں بہتر اے آئی حل چاہتے ہیں۔

یہ ڈیوائس اس بات کا اشارہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل صرف بڑے ڈیٹا سینٹرز یا انٹرنیٹ سے جڑا ہوا نہیں ہوگا، بلکہ اے آئی تیزی سے ایج ڈیوائسز اور ذاتی کمپیوٹنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پاکٹ لیب جیسے آلات اس تبدیلی کی واضح مثال ہیں، جہاں طاقت، پرائیویسی اور کنٹرول ایک ہی چھوٹے سے آلے میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #CES2026, #TiinyAI, #PocketLab, #OfflineAI, #EdgeAI, #ArtificialIntelligence

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں