بی بی سی کی تحقیقاتی ٹیم BBC Verify نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلنے والی کئی ویڈیوز دراصل جعلی یا اے آئی سے تیار کردہ تھیں، مگر انہیں حقیقی جنگی فوٹیج کے طور پر شیئر کیا جا رہا تھا۔
تحقیق کے مطابق ان جعلی مواد میں اے آئی سے تیار کی گئی جنگی ویڈیوز، فرضی سیٹلائٹ تصاویر اور حتیٰ کہ ویڈیو گیمز کے کلپس بھی شامل تھے۔ یہ ویڈیوز مختلف پلیٹ فارمز پر مل کر کروڑوں بار دیکھی جا چکی ہیں۔
بی بی سی کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم X کا چیٹ بوٹ Grok بھی بعض اوقات ان جعلی ویڈیوز کو حقیقی قرار دیتا رہا۔ کچھ صارفین کو جواب دیتے ہوئے اس نے غلط طور پر کہا کہ میزائل حملے کی ویڈیوز حقیقی ہیں اور اپنی بات کے ثبوت کے طور پر Reuters جیسے میڈیا اداروں کا حوالہ بھی دے دیا۔
اس صورتحال کے بعد پلیٹ فارم X نے اعلان کیا ہے کہ جو تخلیق کار جنگی حالات سے متعلق بغیر لیبل کے اے آئی ویڈیوز پوسٹ کریں گے انہیں 90 دن کے لیے ریونیو شیئرنگ پروگرام سے معطل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جنگی حالات میں اے آئی سے تیار کردہ جعلی مواد نہ صرف عوام کو گمراہ کر سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر غلط معلومات اور پروپیگنڈے کے خطرات کو بھی بڑھا سکتا ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے