آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین کی ایک نئی تحقیق کے مطابق اے آئی چیٹ بوٹس استعمال کرنے والے افراد صرف تقریباً ایک تہائی کیسز میں بیماری کی درست شناخت کر پاتے ہیں۔ تحقیق میں اسے صارف اور اے آئی کے درمیان “دو طرفہ رابطے کی ناکامی” قرار دیا گیا، جہاں یا تو صارف علامات درست بیان نہیں کرتا یا اے آئی انہیں صحیح انداز میں سمجھ نہیں پاتا۔
اسی دوران ماؤنٹ سائنائی کی ایک الگ تحقیق میں ChatGPT Health نامی ٹول کا جائزہ لیا گیا، جو OpenAI نے جنوری میں صارفین کے لیے متعارف کرایا تھا۔ تحقیق میں یہ سامنے آیا کہ اس سسٹم نے ہنگامی طبی صورتحال کے آدھے سے زیادہ کیسز میں فوری علاج کی ضرورت کو کم اندازہ لگایا۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کی غلط درجہ بندی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اگر کسی سنگین بیماری کو کم خطرناک سمجھ لیا جائے تو مریض بروقت علاج حاصل نہیں کر پاتا۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اس کے نئے اے آئی ماڈلز پہلے کے مقابلے میں کم غلطیاں کرتے ہیں اور وقت کے ساتھ بہتر ہوتے جا رہے ہیں۔ تاہم محققین اب بھی خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کسی کو سنگین علامات یا ہنگامی صورتحال کا سامنا ہو تو اسے فوری طور پر ڈاکٹر یا طبی ادارے سے رابطہ کرنا چاہیے۔
یہ صورتحال اس بات کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ اے آئی طبی معلومات فراہم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے، لیکن فیصلہ کن طبی تشخیص اور علاج کے لیے انسانی ڈاکٹر کا متبادل ابھی نہیں بن سکا۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے