جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

بچوں کے لیے

بچوں کے لیے اے آئی کی دنیا، قسط ۱۶

17 مئی 2025

بچوں کے لیے اے آئی کی دنیا، قسط ۱۶

(پینتیس اقساط پر مشتمل سریز جو بچوں اور نئے سیکھنے والوں کو انتہائی آسان انداز میں اے آئی کی دنیا سے متعارف کرائے گی)

قسط نمبر 15: انڈر فٹنگ کیا ہے؟

گزشتہ قسط میں ہم نے جانا کہ اوور فٹنگ کیا ہوتی ہے یعنی جب مشین ہر چیز رٹ لے لیکن سمجھ نہ پائے۔

آج ہم اس کے برعکس کیفیت کو سمجھیں گے، جو اتنی ہی اہم ہے یعنی انڈر فٹنگ۔
ذرا تصور کریں کہ استاد نے ایک بچے کو گنتی سکھانے کے لیے کئی دن تک تربیت دی۔
لیکن بچہ نہ تو صحیح سے "ایک، دو، تین" یاد کر پایا، نہ سمجھ پایا کہ ان نمبروں کا مطلب کیا ہے۔
جب استاد نے اس سے پوچھا: "اگر تمہارے پاس دو آم ہیں اور میں ایک اور دے دوں تو کتنے ہو جائیں گے؟"
تو بچہ الجھ گیا۔
یہی ہے انڈر فٹنگ کہ جب سیکھنے کا عمل ادھورا، کمزور یا ناکافی ہو۔
مشین لرننگ میں انڈر فٹنگ اس وقت ہوتی ہے جب مشین کو اتنی معلومات، رہنمائی یا قابلیت نہیں دی جاتی کہ وہ ڈیٹا کو اچھی طرح سمجھ سکے۔
یعنی نہ ٹریننگ کے وقت وہ اچھی کارکردگی دکھاتی ہے، نہ ہی ٹیسٹنگ میں۔
اس کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں:
• کمزور ماڈل: اگر ماڈل بہت سادہ ہو اور ڈیٹا پیچیدہ، تو وہ درست طور پر سیکھ ہی نہیں پاتا۔
• کم ڈیٹا: اگر مثالیں کم ہوں، مشین کے پاس سیکھنے کا مواد ہی نہ ہو۔
• غلط فیچرز: اگر ہم مشین کو وہ نشانیاں (فیچرز) ہی نہ دیں جو فرق سمجھنے میں مدد کریں، تو مشین الجھ جاتی ہے۔
• ٹریننگ کی کمی: اگر مشق کم ہو، یا جلدی ٹریننگ روک دی جائے، تو مشین کی سیکھنے کی صلاحیت ادھوری رہ جاتی ہے۔

انڈر فٹنگ کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی بچہ صرف "الف بے" رٹ لے اور پورا جملہ کبھی نہ پڑھ سکے۔
یا جیسے ایک کھلاڑی کو دو دن کی مشق کے بعد ہی میچ میں اتار دیا جائے جب کہ نہ اس کا ذہن ابھی تیار ہو اور نہ ہی جسم۔

جب ماڈل میں انڈر فٹنگ ہو، تو وہ نہ صرف نئے ڈیٹا پر غلط فیصلے کرتا ہے، بلکہ پرانے ٹریننگ ڈیٹا پر بھی اچھی کارکردگی نہیں دکھاتا۔
یعنی وہ نہ یاد کرتا ہے، نہ سمجھتا ہے، الغرض دونوں کمزور!

اس مسئلے سے بچنے کے لیے ہمیں ماڈل کو مناسب سائز، درست فیچرز، معقول ٹریننگ اور اچھے ڈیٹا سے نوازنا ہوتا ہے۔
تب جا کر مشین سیکھنے کے قابل بنتی ہے۔
اوور فٹنگ اور انڈر فٹنگ میں توازن رکھنا ہی ایک ماہر کی پہچان ہے۔
ماڈل نہ اتنا پیچیدہ ہو کہ ہر چیز رٹ لے، نہ اتنا سادہ کہ کچھ بھی سیکھ ہی نہ سکے۔

آج کی قسط میں ہم نے سیکھا کہ انڈر فٹنگ وہ کیفیت ہے جب مشین اتنا بھی نہیں سیکھ پاتی کہ بنیادی باتوں کو پہچان سکے، اور سیکھنے کا عمل مکمل طور پر ناکام ہو جاتا ہے۔

اگلی قسط میں ہم ایک زبردست دنیا میں داخل ہوں گے: نیورل نیٹ ورک ، جہاں مشینیں انسانوں کے دماغ سے سیکھنا شروع کرتی ہیں۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔ اس کی تمام اقساط آپ (#AiKiDuniyaKidsSeries) ہیش ٹیگ پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں